السلام علیکم !اگر کوئی مریض اس قابل نہ ہو کہ وہ طہارت کے لۓ اپنے بال صاف کرسکے تو کیا دوسرا آدمی اس کے زیرِ ناف بال صاف کر سکتا ہے ؟
اگر کوئی شخص واقعۃً اتنا معذور ہو کہ از خود کسی طرح زیرِ ناف بال صاف نہ کر سکتا ہو اور اسکی بیوی بھی نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں کسی دوسرے شخص سے کریم یا لوشن وغیرہ کے ذریعے زیرِ ناف بال صاف کر وانے کی گنجائش ہے ، مگر اس دوران بال صاف کرنے والے شخص کے لۓ حتی الامکان مذکور شخص کی شرمگاہ کو دیکھنے اور چھونے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیۓ ۔
في الفتاویٰ الهندية : في جامع الجوامع حلق عانته بيده و حلق الحجام جائز إن غض بصره كذا في التاتارخانیه . اھ (5/385 )۔
و في التاتارخانية : و ذكر الفقيه ابو الليث في فتاواه في باب الطهارات قال محمد بن مقاتل الرازي لاباس بان یتولی صاحب الحمام عورة انسان بيده عند التنوير اذا كان یعض بصره كما انه لا باس به اذا كان يداوي جرحاً او فرحاً قال الفقيه و هذا في حالة الضرورة لا في غيرها و ينبغي لكل واحد ان يتولى عنه بيده اذا تنور ۔ اھ (18 / 99)۔