کیا مروجہ انشورنس کمپنی کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنا شرعاً جائز ہے؟
واضح ہو کہ مروجہ انشورنس چونکہ سود ، قمار اور غرر جیسے ناجائز امور پر مشتمل ہے، اس لئے سائل کا مذکور انشورنس کمپنی کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ سائل پر لازم ہے کہ جلد از جلد دوسرا کوئی ذریعۂ آمدن تلاش کرنے کی فکر کرے اور موقع ملتے ہی فوراً اس ملازمت سے استعفی دیدے ، لیکن جب تک دوسرا کوئی اور ذریعۂ آمدن میسر نہ ہو تو مجبوری کی صورت میں مذکور ملازمت جاری رکھنے کی گنجائش ہے ، البتہ اس کے ساتھ ساتھ توبہ و استغفار اور جلد از جلد دوسری جائز ملازمت و غیرہ کی تلاش جاری رکھی جائے ۔
کما فی صحیح مسلم: عن جابر قال:لعن رسول اللہ ﷺآکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال :ھم سواء (ج 2 ص 1052)-
و فی تکملۃ فتح الملھم: قولہ" مکاتبہ " لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ومن ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویہ لا یجوز فان کان التوظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابۃ و الحساب فذلک حرام بوجھین : الاول:اعانۃ علی المعصیۃ والثانی : اخذ الاجرۃ من المال الحرام الخ (ج 2 ص 619)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0