کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں آج کل بعض لوگ چوری چھپے باہر ملک کمانے کی نیت سے جاتے ہیں، تو ان کی بھیجی ہوئی کمائی حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ غیر قانونی طریقہ سے چوری چھپے بیرونِ ملک جانا قانوناً و اخلاقاً جرم ہونے کے ساتھ اپنی جان اور عزت خطرہ میں ڈالنے کے مترادف ہے، جس سے شرعاً احتراز لازم ہے، تاہم اگر کوئی شخص مذکور طریقہ سے بیرونِ ملک چلا جائے اور وہاں پوری محنت اور دیانت داری کے ساتھ حلال نوکری کر کے کمائی ہوئی رقم اپنے ملک بھیجے تو اس کی یہ رقم بلاشبہ حلال ہے، اس رقم کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم ( الی قولہ ) ومن الناس من يقول إن الأظهر من أولى الأمر هاهنا أنهم الأمراء لأنه قدم ذكر الأمر بالعدل وهذا خطاب لمن يملك تنفيذ الأحكام وهم الأمراء والقضاة ثم عطف عليه الأمر بطاعة أولي الأمر وهم ولاة الأمر الذين يحكمون عليهم ماداموا عدولا مرضيين وليس يمتنع أن يكون ذلك أمرا بطاعة الفريقين من أولي الأمر وهم أمراء السرايا والعلماء إذ ليس في تقدم الأمر بالحكم بالعدل ما يوجب الاقتصار بالأمر بطاعة أولي الأمر على الأمراء دون غيرهم الخ ( باب فی طاعۃ اولی الامر ج 2 ص 210 ط: سہیل اکیڈمی )۔