آج کل بہت سے موبائل ایپ آ گئے ہیں، جن پر مرد اور خواتین(نقاب اور بغیرنقاب) ویڈیو پر 40 گھنٹے ایک مہینے میں بیٹھتے ہیں، جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ لوگ یہ کام کیوں کر رہے ہیں؟ تو انکا جواب ہوتا ہے: غریب ہوں، بیوہ ہوں، یا طلاق یافتہ , یہ جواب دیتی ہیں، پھر ایپ والے ان کو ان کی گفٹنگ کے مطابق پیسے دیتے ہیں جس میں ایپ والے تنخواہ کا %3 اپنے لئےلیتے ہیں، لوگ گفٹس بھیجتے ہیں جو کہ پیسوں سے خریدے جاتے ہیں جو لوگ گفٹس بھیجتے ہیں وہ اپنے پیسوں سے سکے خریدتے ہیں مثال کے طور پر پاکستانی 2 ہزار کے 1 لاکھ کوائنز یعنی (سکے) ملتے ہیں ان ایپس پر گیمیں کھیلی جاتی ہیں، وہ گیم اس طرح کی ہوتی ہے کہ تین باکسز ہوتی ہیں A. B. C 70 80. 100 اس میں یہ 3 بندوں نے سکے ڈالے ہیں 30 سیکنڈ کا وقت ہوتا ہے 30 سیکنڈ کے بعد ایک باکس کھلتا ہے جیسے فرض کریں C 100 والا کھلا ہے تو اس کو 300 ملینگے یعنی دو گنا زیادہ ملیں گے، اور باقی A,B والے کے سارے سکے ضائع ہو جائیں گے، جس میں بعض دفعہ نقصان اور بعض اوقات فائدہ ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ اس طرح کی کمائی جائز ہے یا نہیں ؟ اور گیم کھیل کر سکے جیتنا جائز ہے یا نہیں ؟ جیسے یہ ایک بندے کی تنخواہ کی سلپ ہے 32 لاکھ سکے , 40 ہزار سکوں کی مالیت 25 ہزار , بنیادی تنخواہ 65 ہزار ٹوٹل 3 فیصد ایپ والوں کا نکال کر 63 ہزار تنخواہ بنتی ہے۔
سائل نے سوال میں مذکور ایپ کی جو تفصیل ذکر کی ہیں، اس ایپ میں مرد و خواتین کا ایک دوسرے کے ساتھ غیرضروری بات چیت کرنا، ڈیجیٹل گفٹ اور ہدایا کا تبادلہ کرنا، اِسی طرح ہار جیت پر شرط لگا کر ”جوا“ کھیلنا شرعاً جائز نہیں، لہذا اس ایپ کے غلط اور ناجائز استعمال سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اھ (ج1،صـــ647،ط:سعید)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: أما التلفزیون والفدیو فلا شك فی حرمۃ استعمالھما بالنظر إلی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ، من الخلاعۃ والمجون، والکشف عن النساء المتبرجات أو العاریات، وما إلی ذلک من أسباب الفسوق اھ (ج4،صــ164، ط:مکتبہ دار العلوم)۔
و فی رد المحتار تحت: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (ج6،صـــ403،ط:سعید)۔