آمدنی و مصارف

شئیرز کا کاروبار کرنا اور غیر مسلم بھائی اور رشتہ دار کے گھر میں کھانا کھانا

فتوی نمبر :
72657
| تاریخ :
2024-04-22
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

شئیرز کا کاروبار کرنا اور غیر مسلم بھائی اور رشتہ دار کے گھر میں کھانا کھانا

1- کیا اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنا درست ہے؟ کچھ کمپنیاں ایسی ہیں جو شریعت کے مطابق ہیں لیکن پھر بھی ان کی بیلنس شیٹ میں آپ قرضوں پر سود دیکھ سکتے ہیں۔
2- میرا بھائی اور ماں مسلمان نہیں ہیں۔ وہ مجھے اپنے گھر آنے اور کھانا کھانے کو کہتے ہیں۔ میرے بھائی کی کمائی سودی بینک سے ہے۔ میری والدہ دوسرے گھر سے کرایہ کماتی ہیں لیکن وہ گھر کے اخراجات میں حصہ نہیں دیتیں۔ کیا میرا ان کی جگہ پر کھانا درست ہے؟
3- میرے پاس پیسے ہیں جن کی زکوٰۃ شوال کے آخر میں واجب ہوگی۔ اگر میں ذاتی استعمال کے لئے موٹر سائیکل خریدتا ہوں تو کیا پھر بھی مجھے موٹر سائیکل کی رقم پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی جو میں خرید رہا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1- واضح ہو کہ کسی بھی اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خرید وفروخت درجِ ذیل چار شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں ،اس کمپنی کا بنیادی کام حرام نہ ہو۔
 اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیّال اثاثوں(liquid assests) یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں،بلکہ کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے(fixed assests) بھی حاصل کرلیے ہوں،مثلاً بلڈنگ بنالی ہو یا زمین خرید لی ہو وغیرہ ۔
 اگر کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو،لیکن کمپنی سودی لین دین کرتی ہوتو اس صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سودی لین دین کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔
چوتھی شرط ،جو حقیقت میں تیسری شرط کا ایک حصّہ ہے وہ یہ کہ جب منافع تقسیم(dividend) ہوتووہ شخص انکم اسٹیٹمنٹ (income statement)کے ذریعےمعلوم کرلے کہ آمدنی کا کتنےفیصد حصّہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے،پھر جتنا حصّہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے اسے صدقہ کردے۔
لہذا مذکورہ بالا تمام شرائط کی مکمل پابندی کے ساتھ اگر شیئرز کا کاروبار کیا جائےتو اس سے حاصل شدہ نفع بھی حلال ہوگا۔
2- کفار چونکہ راجح قول کے مطابق فروعی احکام کےمکلف نہیں،لہذاسائل کے لئے اپنے بھائی کے ہاں کھانے پینے کی گنجائش ہے،تاہم احتراز بہرحال بہتر ہے۔
3-مسئولہ صورت میں سائل اگر سال پورا ہونے سے قبل ذاتی استعمال کے لئے موٹر سائیکل خریدتا ہے تو اس کے ذمہ موٹر سائیکل کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فقہ البیوع للشیخ عثمانی (1/381)
وبجواز بیع الأسھم افتیٰ کثیر من علماء الھند، مثل الإمام الشیخ اشرف علی التھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ.
ولکن ھذا الجواز یخضع لجمیع شروط البیع . فلو کانت الشرکۃ لم تبدأ نشاطھا، وکانت موجوداتھا مقتصرۃً علی نقود،فان أسھم تلک الشرکۃ لاتمثّل إلا نقوداً فلو بیع السھم بنقد فی ھذہ الحالۃ، فانہ لا یجوز بیعھا بأقلّ أو أکثر من قیمتھا الإسمیۃ، لأنّ التفاضل یؤدی إلی الربا. وکذلک إن کانت الشرکۃ تجارتھا حراماً،مثل الشرکات التی تتعامل فی الخمر أو الخنزیر، أو البنوک الربویۃ، یحرم تداول أسھمھا
أما إذا کانت الشرکۃ نشاطھا التجاری حلالاً، ولکنھا تودع فائض نقودھا فی البنوک الربویّۃ، وقد تقترض منھا قروضاً ربویۃ، فاختلفت أنظار الفقھاء المعاصرین فی جواز شراء أسھمھا. فقالت جماعۃ من العلماء: أنہ لا یجوز شراء أسھمھا، لأنّ حامل السھم یشارک فی ھذہ العملیات المحرمۃ، فکان مثل شراء أسھم الشرکات التی نشاطھا التجاری حراماً. وقال الآخرون:إنّ ایداع فائض النقود فی البنوک الربویۃ عملیۃ منفصلۃ عن نشاطھا التجاری، فلا یؤثر علی أصل النشاط، بشرط أن یکون قلیلاً بالنسبۃ إلی نشاطھا الأساسیّ، وقدرہ أکثر المجیزین أن یکون مثل ھذا الإیداع أقل من ثلاثین فی مائۃ بالنسبۃ إلیٰ قیمۃ موجوداتھا، والعائد الناتج منھا أقل من خمسۃ فی مائۃ من مجموع إیراداتھا. وقالوا إنّ حامل السھم یجب علیہ أن یرفع صوتہ فی الجمعیۃ العمومیۃ ضد الإقراض أو الإقتراض الربوی، ولکن إذا رفض صوتہ بالأغلبیۃ، ودخل ھذا الکسب المحرم فی أرباح الشرکۃ، فانہ یجب علیہ أن یتخلص من ھذا الکسب المحرم بالتصدق بما یساوی حصتہ من الإیراد الذی دخل فی الشرکۃ تبعاً من خلال ھذا الإیداع.
أما عملیۃ الإقتراض الربوی، فحرام بلا شک، ویأثم بھا فاعلھا، ولکن المبالغ المقترضۃ تدخل فی ملکہ وضمانہ، فلا یحرم ما یکسبہ بھا. وعلیٰ حامل السھم أن لا یأذن مدیر الشرکۃ بھذہ التعاملات الربویۃ برفع صوتہ فی الجمعیۃ العمومیۃ. فان امتنعوا فھو المقصود، وإن لم یمتنعوا، فلا ینسب فعلھم إلیٰ حامل السھم، لأن طبیعۃ الشرکۃ المساھمۃ مختلفۃ من شرکۃ الأشخاص من حیث أن القرارات فی الشرکۃ المساھمۃ تتخذ علیٰ أساس الأغلبیۃ، ولیس بإجماع الشرکاء، کما ھو الحال فی شرکۃ الأشخاص، فلا تنسب القرارات إلیٰ حامل السھم الذی صرح بإنکارہ علیھا. وإلیٰ ھذا یبدو میلان شیخ مشایخنا التھانویّ رحمہ اللہ تعالیٰ. واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم.
ثم إن کان إقتناء أسھم الشرکات جائزاً، انطبق علیٰ بیعہ وشراءہ جمیع الشروط الشرعیۃ لجواز البیع وصحتہ. ولذلک لا یجوز لأحد أن یبیع أسھما لایملکھا کما ھو معمول بہ فی البورصات، فإنّ الناس یبیعون أسھماً لایملکونھا، ویسمونھا short sale وھو ممنوع فی الشریعۃ قطعاً.
وکذلک یجب أن تکون الأسھم مقبوضۃً لدیٰ البائع قبل أن یبیعھا إلیٰ آخر، وأن لا یکون بیعاً مضافاً إلی المستقبل، وأن لا یستلزم محظوراً آخر، مثل الرباً.
کما فی الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی (1/145)
فلا تکلیف قبل الایمان وھو المطلوب.
کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 273)
والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثنى وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72657کی تصدیق کریں
0     628
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • صدقہ کی چیز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات