کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری بہن کا رشتہ طے ہوا تھا، منگنی کے وقت صرف بات چیت اور منگنی پر ہی اکتفاء ہوا تھا، ایجاب و قبول وغیرہ کچھ نہیں ہوا ، پھر کچھ عرصہ بعد وہ لڑکا ڈکیتی وغیرہ میں ملوث پایا گیا اور دو سال سے جیل میں ہے، جس کے متعلق وارداتوں کے کافی شواہد بھی موجود ہیں، اب ہم یہ رشتہ ختم کرنا چاہتے ہیں ، جبکہ لڑکے والوں کا کہنا ہے کہ ہمارے خاندان میں رشتہ کرنا یہ نکاح شمار ہوتا ہے، لہٰذا آپ لوگ یہ رشتہ ختم نہیں کرسکتے، لہٰذا آپ صاحبان رہنمائی فرمائیں کہ یہ رشتہ ختم کرسکتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ ہمارے خاندان میں منگنی کے بعد شادی کے موقع پر باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح کرایا جاتا ہے، منگنی کو نکاح سمجھ کر اس پر اکتفاء نہیں کیا جاتا۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر واقعۃً سائل کی بہن کی صرف منگنی ہوئی ہو، باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح نہ ہوا ہو تو منگنی چونکہ وعدہ نکاح ہوتا ہے، جس کا پورا کرنا شرعاً لازم ہے، البتہ مجبوری اور عذرِ شرعی کی بناء پر اس کو توڑنے کی بھی گنجائش ہوتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکا اگر واقعۃً ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کے لئے اپنی بہن کی منگنی توڑنے کی بھی گنجائش ہے۔
کما فی الھدایۃ: (وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية الخ ( کتاب النکاح ج 1 ص 267 ط: ماجدیہ )۔
وفی الدر المختار: (و) تعتبر في العرب والعجم (ديانة) أي تقوى فليس فاسق كفؤا لصالحة أو فاسقة بنت صالح معلنا كان أو لا الخ ( کتاب النکاح ج 3 ص 88 ط: سعید)۔