اختر ایک کمپنی میں کام کرتا ہے جو اسے کام پر پہنچنے کے اسی ڈالر دیتی ہے جس کا اختر کمپنی کو بل پیش کرتا ہے، لیکن چونکہ اختر غریب گھرانے سے ہے لہذا وہ اپنے اجازت شدہ الاؤنس سے کم میں سفر کر کے کمپنی سے اسی ڈالر ہی وصول کرتا ہے اور اضافی رقم گھرانے کی کسی اور ضرورت میں صرف کر دیتا ہے، کیا یہ عمل درست ہے؟
نوٹ:سائل سے رابطہ کرنے پر یہ پتا چلا کہ کمپنی سائل کو اسی ڈالرتملیک کے طور پر نہیں دیتی بلکہ یہ کہتی ہے کہ تم مذکور کام کے لئے اسی ڈالر تک خرچ کر سکتے ہو۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور کمپنی نے اگر سائل کو سفری سہولیات کی مد میں اسی (80)ڈالر تک کی رقم خرچ کرنے کی اجازت دے رکھی ہو ، اور مذکور متعینہ رقم اس کو باقاعدہ مالک بنا کر نہ دی جاتی ہو ، تو سائل کا منظور شدہ الاؤنس سے کم سفری اخرجات کے باوجود کمپنی سے پورے اسی ڈالر وصول کرنا اور اس کے لئے جعلی رسید یں وغیرہ بنواکر کمپنی کو دینا ہر دو امور شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح البخاری:عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہﷺمن لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجۃ فی ان یدع طعامہ وشرابہ الحدیث(رقم :1903)
وفی المدخل الفقھی العام :یفرق الفقھاء بین حکم التملیک والاباحۃ،فالاباحۃ ھی الاذن باستھلاک الشیئ اوباستعمالہ وھی لایجعلہ مملوکا بل ھو دون التملیک فلو اباح انسان لآخر ان یاکل من طعامہ (الی قولہ)لا یملک المباح لہ شیئا من الطعام ولایحق لہ ان یبیع ولا ان یبیح لغیرہ الخ(ج1ص373 ط: دار القلم)۔