آمدنی و مصارف

ایک جگہ کام کرنے کی ملی ہوئی ڈبل اجرت کا حکم

فتوی نمبر :
71149
| تاریخ :
2024-02-24
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

ایک جگہ کام کرنے کی ملی ہوئی ڈبل اجرت کا حکم

محترم مفتی صاحب: السلام علیکم! زید ایک جگہ ملازمت کرتا تھا، کمپنی زید کو پرماننٹ کر دیتی ہے، زید جس کمپنی کے ساتھ پرانی ملازمت میں تھا، بطور کنٹریکٹر وہ کمپنی زید کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیتی ہے، اور موجودہ کمپنی میں اس کو مستقل ملازمت مل جاتی ہے، زید نئی کمپنی کو مہینے کی 24 تاریخ کو اپنی خدمات شروع کرنے کا کہتا ہے، لیکن ویزا کی جلد آمد کی صورت میں زید 24 کی بجائے 13 تاریخ کو ملازمت شروع کر دیتا ہے، زید پرانی کمپنی کو اور نئی کمپنی جس میں وہ مستقل ملازمت میں لگ گیا ہے، دونوں کو اس کے متعلق آگاہ کر دیتا ہے، تاکہ تنخواہ جو ہے وہ صرف 13 تک کی پرانی کمپنی ادا کرے، اور13 سے نئی کمپنی شروع کرے،نئی کمپنی زید کو 13 تاریخ کے حساب سے تنخواہ منتقل کرتی ہے، جبکہ اسی اثنا میں پرانی کمپنی زید کو اس کی تنخواہ کا بقیہ حصہ جو کہ 23 تک تھا وہ ادا کر دیتی ہے، اب زید کے پاس 13 سے 23 تک دو تنخواہیں آجاتی ہیں، زید جب اس کے متعلق کمپنی کے اکاؤنٹنٹ کو آگاہ کرتا ہے، تو اکاؤنٹنٹ صاحب اس کو کہتے ہیں چونکہ اس کے پاس زید کی ملازمت کا آغاز 13 سے ہوا ہے، اس لیے وہ 13 سے ہی زید کی تنخواہ ادا کرے گا، یاد رہے زید پہلے بھی نئی کمپنی کے لیے ہی کام کرتا تھا، اور وہی اس کو تنخواہ ادا کرتی تھی بس اس کا معاہدہ عارضی طور پر تھا، جو کہ آج کل کے نظام کے حساب سے کنٹریکٹ مانا جاتا ہے، اور ویزا بھی زید کے پاس کنٹریکٹر کا تھا، جو کہ کوئی اور کمپنی جو کہ، اس سوال میں پرانی کمپنی کے نام سے بیان کی گئی ہے کا تھا، اور وہی اس کو تنخواہ بھی ادا کرتی تھی، اصل (اس سوال میں بیان کی گئی نئی کمپنی ) کمپنی سے وصول کرنے کے بعد اب اس سارے پس منظر میں سوال یہ ہے کہ، کیونکہ اب نئی کمپنی زید سے پیسے واپس نہیں لے رہی، اور پرانی کمپنی بھی اس سے کوئی رابطہ نہیں کر رہی، تو اس صورت میں جو کہ اضافی تنخواہ زید کو منتقل ہو چکی ہے، جس کا دورانیہ تین ماہ سے زیادہ ہو چکا ہے، کیا اس صورت میں زید وہ رقم خود پر خرچ کر سکتا ہے، یا زید کو وہ رقم کسی اور کو بغیر ثواب کی نیت سے ہدیہ کر دینی چاہیے، کیونکہ اس صورتحال میں نئی کمپنی کے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں جس سے وہ زید سے یہ رقم واپس لے سکے۔براہ مہربانی قران و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیجئے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے بیان کے مطابق جب سائل نے تیرہ تاریخ سے پرانی کمپنی کی ملازت ترک کرکے اسے باقاعدہ اطلاع کردی تو ایسی صورت میں اس کے بعد سائل پرانی کمپنی سے تنخواہ وصول کرنے کا حقدار نہیں رہا ، تاہم اس کے باوجود بھی اگر سائل کو دس دنوں کی تنخواہ کے بقدر اضافی رقم موصول ہوئی ہو، تو سائل کو چاہیئے کہ پرانی کمپنی کے ذمہ داران سے رابطہ کرکے اس رقم کے متعلق وضاحت طلب کرے، چنانچہ اگر پرانی کمپنی کے مالکان نے سائل کو یہ رقم برضا ورغبت ارسال کی ہو،ایسا انہوں نے غلطی یا غلط فہمی وغیرہ کی بنیاد پر نہ کیا ہو یا معلوم ہونے پر وہ اس رقم کے چھوڑنے پر رضامندی کا اظہار کرلیتے ہوں، تو ایسی صورت میں یہ کمپنی مالکان کی طرف سے سائل کیساتھ تبرع واحسان شمار ہوگا،اور اس رقم کا استعمال سائل کیلئے جائز اور درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل الخ (ج6 صـ69-70 کتاب الاجارۃ ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله وتحقيقه في الدرر) ونصه: اعلم أن الأجير للخدمة أو لرعي الغنم إنما يكون أجيرا خاصا إذا شرط عليه أن لا يخدم غيره أو لا يرعى لغيره أو ذكر المدة أولا، نحو أن يستأجر راعيا شهرا ليرعى له غنما مسماة بأجر معلوم فإنه أجير خاص بأول الكلام الخ (ج6 صـ70 کتاب الاجارۃ ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: إذ الهبة عقد تبرع وكذا عقد الوديعة والعارية فتماثل القابضان فيتناوبان ضرورة بخلاف بيع الوديعة والعارية من المودع والمستعير لأن قبضهما لا ينوب عن قبض البيع لأن قبض الهبة أمانة وقبض البيع قبض ضمان فلم يتماثل القبضان بل الموجود أدنى من المستحق فلم يتناوبا ولو كان الموهوب في يده مغصوبا أو مقبوضا ببيع فاسد أو مقبوضا على سوم الشراء فكذا ينوب ذلك عن قبض الهبة لوجود المستحق بالعقد وهو أصل القبض وزيادة ضمان الخ (ج6 صـ127 کتاب الھبۃ فصل فی حکم الھبۃ ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفیہ ایضاً: لقوله تبارك وتعالى {فرهان مقبوضة} [البقرة: 283] وصف سبحانه وتعالى الرهن بكونه مقبوضا فيقتضي أن يكون القبض فيه شرطا؛ صيانة لخبره تعالى عن الخلف؛ ولأنه عقد تبرع للحال فلا يفيد الحكم بنفسه كسائر التبرعات الخ (ج6 صـ137 فصل فی شرائط رکن الرھن ط: دار الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71149کی تصدیق کریں
0     790
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • صدقہ کی چیز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات