السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آپ بازار سے چوری کی چیزیں خرید کر اپنے کاروبار میں استعمال کر رہے ہیں، کیا ایسا کرنا حلال ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ قرآن و حدیث میں پاکیزہ اور حلال رزق کمانے اور کھانے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے جبکہ حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، لہذا اگر خریدار کو یقین یا غالبِ گمان کی حد تک معلوم ہو کہ بیچنے والا چوری کی چیز فروخت کر رہا ہے تو اس شخص سے مذکور چیز خریدنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ الآیۃ (آیتـ 172 سورۃ البقرۃ)
وقال اللہ تعالی: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ الآیۃ (آیتـ 188 سورۃ البقرۃ)
وفی الھندیۃ: لا یحل لہ (إلی قولہ) فکل عین قائمۃ یغلب علیٰ ظنہ أنھم أخذوھا من الغیر بالظلم وباعوھا فی السوق فأنہ ینبغی أن یشتری ذلک وإن تداولتھا الایدی الخ (کتاب الکراھیۃ الباب الخامس والعشرون فی البیع ج 5 صـ 364 ط: ماجدیۃ)
وفی رد المحتار: تحت (قولہ الحرام ینتقل) أی ینتقل حرمتہ وإن تداولتہ الأیدی وتبدلت الأملاک، ویأتی تمامہ قریبا (قولہ ولا للمشتری منہ) فیکون بشرائہ منہ مسیئا لأنہ ملکہ بکسب خبیث، و فی شرائہ تقریر للخبیث ویؤمر بما کان یؤمر بہ البائع الخ (کتاب البیوع باب بیع الفاسد ج 5 صـ 98 ط: سعید)