السلام علیکم !حضرت میرا سوال یہ ہے کہ زید کی بیٹی بالغ ہو چکی ہے اور وہ اس کا رشتہ کروانا چاہتا ہے لیکن زید کے والدین اس کو منع کر رہے ہیں کہ لڑکی ابھی چھوٹی ہے اس کا رشتہ نہ کرو، اگر رشتہ کیا تو ہمارا تم سے رشتہ ختم ہے، اور زید کو اس بات پر بددعائیں بھی دے رہے ہیں، تو اب زید کیا کرے؟
زید کی بیٹی اگر عاقلہ و بالغہ ہو اور اس کے لئے کوئی مناسب رشتہ بھی آچکا ہو تو زید کے لئے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنی بیٹی کا کسی مناسب جگہ رشتہ کروانے میں کوئی مضائقہ نہیں ، لڑکی کے بالغ ہونے کے باوجود زید کے والدین کا بغیر کسی عذر کے اس رشتے پر معترض ہونا اور اپنے بیٹے کو بد دعائیں دینا قطعاً مناسب نہیں ، تاہم زید کو بھی چاہئے کہ اس معاملے میں والدین کو کسی طرح راضی کرکے ان کی دل آزاری سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرے ۔
قال اللہ تعالی : وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا الایۃ (بنی اسرائیل۔آیۃ 23)۔
وفی الدر المختار : (بلوغ الغلام بالاحتلام والاحبال والانزال) (الی قولہ) (والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل) (الی قولہ) (وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ ولھا تسع سنین) ھو المختار الخ (فصل بلوغ الغلام۔ج 6 ص153 ط۔سعید)۔
وفیہ ایضاً : (الوالی فی النکاح) لا المال (العصبۃ بنفسہ) (الی قولہ) (علی ترتیب الارث والحجب) الخ (باب الولی۔ج3 ص72 ط: سعید)۔
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0