السلام علیکم !
ہمیں کمپنی کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ اپنے سیلری کا کارڈ انشورنس کریں جس کا ماہانہ چھ درہم کٹے گا اور آپ کو کام نہ ملنے کی صورت میں اپنی سیلری کا 60 پرسنٹ ملے گا اور اگر انشورنس نہ کریں تو پھر 400 درہم سالانہ فائن پڑے گا تو اس صورت میں کیا کریں؟
مزید وضاحت! یو اے ای حکام نے نجی اداروں میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو بے روزگاری انشورنس کرانے کا حکم دیا ہے، جس میں مطلع کیا گیا ہے کہ انشورنس کرانے والے ملازم کو نوکری ختم ہونے کی صورت میں 3 ماہ تک ایک معقول رقم دی جائے گی، تاکہ وہ اپنی زندگی کے معاملات آسانی کے ساتھ چلا سکے، جبکہ انشورنس نہ کروانے والوں پر 400 درہم جرمانہ کیا جائے گا، اب وہاں تمام ملازمین کے لئے انشورنس لازم ہوچکی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً متحدہ عرب امارات میں سیلری کارڈ انشورنس کروانا قانونی طور پر لازم ہو اور انشورنس نہ کروانے پر ملازمین سے سالانہ 400 درہم جرمانہ لیا جاتا ہو تو ایسی مجبوری میں سائل کے لئے جرمانہ سے بچنے کے لئے سیلری کارڈ انشورنس کروانے کی گنجائش ہے۔
کما فی قولہ تعالیٰ: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا اھ ( سورۃ البقرۃ: 275 )۔
وفی قواعد الفقہ: الضرورات تبیح المحظورات اھ ( ص 89 )۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0