السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا خاندانی ایک کاروبار ہے ، میں کریڈٹ پر فروخت کرتا ہوں ، پھر جب مجھے کریڈٹ کی رقم ملتی ہے تو میں کچھ اپنے لئے رکھتا ہوں اور باقی اپنے والد کو دیتا ہوں، وہ کاروبار کے مالک ہیں، کیا اس طرح کرنا شرعاً حلال ہے ؟ بینو اتوجروا
سائل اگر اپنے والد کے ساتھ ان کے کاروبار میں بطورِ معاون کام کر رہا ہو اور سائل اپنے خرچ کے لئے رقم لینا چاہے تو والد کی اجازت سے بقدرِ ضرورت رقم لے سکتا ہے، والد کی اجازت اور ان کے علم میں لائے بغیر کاروبار سے اپنے ذاتی اخراجات کیلئے رقم لینا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،
تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال دوبارہ مکمل وضاحت کے ساتھ لکھ کر ایمیل کردیں، ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائےگا۔
کما فی الدر المختار: وھذا إن باعہ علی أنہ (لمالکہ) أما لو باعہ علی أنہ لنفسہ (إلی قولہ) فالبیع باطل اھ (کتاب البیوع فصل فی الفضولی ج 5 صـ 107 ط: سعید)
وفی شرح المجلۃ: لا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بلا إذنہ اھ (المقدمۃ المقالۃ الثانیۃ المادۃ 96 ج 1 صـ 262ط: اسلامیۃ)
وفیہ ایضاً: لا یجوز لأحد أن یأخذ مال احد بلا سبب شرعی، أی لا یحل فی کل الأحوال عمداً أو خطأً أو نسیانا، جداً أو لعباً، أن یأخذ احد مال احد بوجہ لم یشرعہ اللہ تعالی ولم یبحہ، لأن حقوق العباد محترمۃ لا تسقط بعذر الخطأ والنسیان والھزل وغیرہ اھ (المقدمۃ المقالۃ الثانیۃ المادۃ 97 ج 1 صـ 262ط: اسلامیۃ)