کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام دیوبند , مروجہ حیلۂ اسقاط کے بارے میں کہ جائز ہے یا ناجائز ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل جواب درکار ہے ؟
واضح ہو کہ مروجہ حیلۂ اسقاط میں بہت سارے مفاسد پائے جاتے ہیں اورصحیح طریقۂ کار پرعمل نہیں کیا جاتا ،اس لئےاس سےاحتراز لازم ہے، جبکہ فقہاءِ کرام نے حیلۂ اسقاط ایسے شخص کیلئے تجویز فرمایا ہے جس کی کچھ نمازیں اور روزے وغیرہ اتفاقاً فوت ہوگئے ہوں اور قضاء کرنے کا موقع نہ ملا ہو، اور موت کے وقت وصیت کی بھی فرصت نہ ملی ہو،جبکہ اسکے ترکہ میں اتنا مال بھی نہ ہوجس سے اسکی فوت شدہ نمازوں اور روزوں وغیرہ کا فدیہ ادا کیا جا سکے، اور اسکی شرائط میں یہ بھی ہے کہ جو رقم کسی کو صدقہ کےطورپردی جائے تو اسکو حقیقی طور پر مالک و مختار بنا کر دی جائے، چنانچہ مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ اسقاط کرنے سے فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ بھی ادا ہو جائے گا۔ (ماخوذ از تبویب)
و فی رد المحتار: (قوله و لو لم يترك مالا إلخ) (الی قوله)وبه ظھر حال وصايا أهل زماننا، فإن الواحد منھم يكون في ذمته صلوات كثيرة و غيرها من زكاة و أضاح وأيمان ويوصي لذلك بدراهم يسيرة،ويجعل معظم وصيته لقراءة الختمات والتھاليل التي نص علماؤنا على عدم صحة الوصية بھا، وأن القراءة لشيء من الدنيا لا تجوز۔اھ (2/ 73)۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1