انشورنس یا بیمہ پالیسی

ایزی پیسہ والوں کے لائف انشورنس کا حکم

فتوی نمبر :
69947
| تاریخ :
2023-12-24
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / انشورنس یا بیمہ پالیسی

ایزی پیسہ والوں کے لائف انشورنس کا حکم

ایزی پیسہ کی طرف سے لائف انشورنس دی جا رہی ہے ، ایک دفعہ سولہ سو روپے اکاؤنٹ سے کٹوتی پر سال کے اندر اکاؤنٹ ہولڈر کو حادثاتی موت پر فیملی کو دو سے چھ لاکھ روپے کمپنی کی جانب سے لائف انشورنس اسکیم کے تحت ملیں گے ، کیا اس طرح کی اسکیم حلال ہے یا ناجائز و حرام ؟ رہنمائی فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مروجہ انشورنس سود ، قمار اور غرر جیسے غیر شرعی امور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ، لہٰذا ایزی پیسہ کے ذریعے لائف انشورنس لینا بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مرقاۃ المفاتیح: (عن جابر قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم آكل الربا» ) ، أي: آخذه وإن لم يأكل ، وإنما خص بالأكل لأنه أعظم أنواع الانتفاع كما قال - تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما} (ومؤكله) : بهمزة و يبدل أي: معطيه لمن يأخذه ، وإن لم يأكل منه نظرا إلى أن الأكل هو الأغلب أو الأعظم كما تقدم ، قال الخطابي: سوى رسول الله - صلى الله عليه وسلم بين آكل الربا وموكله ، إذ كل لا يتوصل إلى أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فهما شريكان في الإثم كما كانا شريكين في الفعل ، ( الی قولہ ) (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل الخ ۔( الفصل الاول ، باب الربا ، ج۶ ، ص۵۱ ، ط۔ حقانیہ )۔
و فی رد المحتار: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص ، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي اھ۔ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ، فصل فی البیع ، ج۶ ، ص۴۰۳ ، ط۔ ایم سعید ) ۔
و فی بدائع الصنائع: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر وبيان تمكن الغرر أن الغرر هو الخطر وفي هذا البيع خطر من وجوه: أحدها: في أصل المعقود عليه، الخ ۔ ( کتاب البیوع ، فصل و أما الشرائط الصحۃ ، ج۵ ، ص۱۶۳ ، ط۔ ایم سعید )۔
و فی رد المحتار: وبما قررناه يظهر جواب ما كثر السؤال عنه في زماننا و هو أنه جرت العادة أن التجار إذا استأجروا مركبا من حربي يدفعون له أجرته ، و يدفعون أيضا مالا معلوما لرجل حربي مقيم في بلاده ، يسمى ذلك المال سوكرة على أنه مهما هلك من المال الذي في المركب بحرق أو غرق أو نهب أو غيره ، فذلك الرجل ضامن له بمقابلة ما يأخذه منهم ، و له وكيل عنه مستأمن في دارنا يقيم في بلاد السواحل الإسلامية بإذن السلطان يقبض من التجار مال السوكرة و إذا هلك من مالهم في البحر شيء يؤدي ذلك المستأمن للتجار بدله تماما ، والذي يظهر لي: أنه لا يحل للتاجر أخذ بدل الهالك من ماله لأن هذا التزام ما لا يلزم الخ ۔ ( باب المستأمن ، ج۴ ، ص۱۷۰ ، ط۔ ایم سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69947کی تصدیق کریں
0     1017
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا انشورنس جائز ہے ؟کیا مفتی تقی عثمانی صاحب کی انشورنس کمپنی ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   انشورنس یا بیمہ پالیسی 7
  • میزان بینک کا کفالہ اور سیونگ اکاؤنٹ کا حکم،معاون یا مہمان کا مدرسہ کا کھانا کھانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • بیرون ملک میں کئے گئے انشورنس کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • لائف انشورنس کا حکم - انشورنس کروانا کیسا ہے

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 3
  • انشورنس کس بینک سے کروائیں - انشورنس اور تکافل میں فرق

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • میڈیکل انشورنس پالیسی کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   انشورنس یا بیمہ پالیسی 1
  • انشورنس والی گاڑی کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • کمپنی کا ملازمین کیلئے انشورنس پالیسی لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • جوبلی تکافل انشورنس میں اپنی گاڑی، بائیک یا لائف تکافل کروانا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • کمپنی-فیکٹری کا ، اپنے ملازمین کیلۓ "صحت بیمہ پالیسی "لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • پوسٹل لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • کسی مجبوری کی وجہ سے کاروبار کا انشورنس کروانا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • اسٹیٹ لائف انشورنس کی پالیسی لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • جرمنی جانے کیلئے مجبوراً ہیلتھ انشورنس کرانا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • پاک قطر فیملی تکافل کی پالیسی لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 1
  • انشورنس کے معاملات دیکھنے کی ملازمت کا حکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • کیا بیمہ پالیسی لینا حلال ہے؟

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • اسٹیٹ لائف انشورنس اور پاک قطر تکافل میں فرق ہے؟

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • گاڑی کی وقتاً فوقتاً مرمت کروانے کیلئے ممبر شپ خریدنا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • پاک قطر فیملی تکافل کا طریقہ کار اور اسکی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • داؤد فیملی تکافل میں حصہ لینے کاحکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • تکافل فیملی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • پاک قطر فیملی تکافل کا طریقہ کار اور اس کاحکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
Related Topics متعلقه موضوعات