میں نے ایک جگہ ایک سال ملازمت کی، وہاں میری تنخواہ 30000 تھی ، پھر میں نے سیٹھ سے بات کر کے اپنی تنخواہ 60000 کروادی ، جون۲۰۲۳ کے آخر میں , اب میں امید میں تھا کہ میری تنخواہ جولائی کی جو آئیگی وہ 60000 ہوگی ، مگر اتنی نہیں بھیجی گئی ، میں نے فائنانس میں رابطہ کیا اورکہا کہ میری تنخواہ بڑھ چکی ہے ، اور آپ نے کم بھیجی ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ اگلے مہینے سے ہوگی ، میں ملازمت سے نکل جانے کے ڈر میں خاموش ہوگیا ، اور آگے کام کیا ، مگر پھر انہوں نے مجھے اگست اور ستمبر کی بھی کم دی اور میں نے پھر ملازمت چھوڑ دی ، کیوں کہ وعدے کے مطابق میری تنخواہ مجھے کم دی جا رہی تھی ، میں ملازمت کے دوران دو دفعہ ان سے ملا بھی اور بتایا اس مسئلہ کے حوالے سے اور وہ یہ بات تسلیم بھی کرتے تھے کہ وہ مجھے پیسے کم دے رہے ہیں ، اب جب میں نے کام چھوڑ دیا تو میرے پاس کمپنی کے دو موبائل اور دو laptop پڑے ہوئےتھے ، انکے مانگنے پر میں نے انکار کردیا اور کہا کہ جب تک آپ مجھے میرے پرانے پیسے ادا نہیں کریں گے، میں آپکو آپ کا سامان واپس نہیں کروں گا ، پھر میں نے تقریباً ایک ماہ پہلے اپنے سیٹھ سے میسج میں بات کی اور یہ ساری کہانی بتائی ، اُنہوں نے کہانی سننے کے بعد مجھے یقین دلایا کہ وہ جلد مجھے میرے پیسے جمع کردینگے ، لیکن اسکے بعد بھی انہوں میں میرے پیسے واپس نہیں کیے اور مسلسل میرے میسجز کو نظر انداز کر رہے ہیں ، اب میں نے ان کو تین دن پہلے میسیج بھیجا کہ میں ان کا سامان بیچ کر اپنے پیسے وصول کرلوں گا ، مگر وہ اسکے بعدبھی مجھے نظرانداز کر رہے ہیں ، مجھے بتائیں اس میں میرے لئے اب کیا حکم ہے ؟ اسلام کے احکام کے مطابق ؟۔
یاد رہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھے پیسے کم دیے اور اس کا وعدہ بھی کیا کہ جلد وہ میرے پیسے جمع کرا دینگے ، مگر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ، سوائے مسلسل نظرانداز کرنے کے ، مجھے بتائیں کیا میں انکا سامان بیچ کر اپنے پیسے وصول کر سکتا ہوں ؟ اور اگر سامان کی رقم وصول کردہ رقم سے زیادہ ہوئی تو میں انکے بقایا پیسے انکے حوالے کردوں گا اور اگر سامان بیچنے میں وصول کردہ رقم پوری نہیں ہوئی تو کیا ہوگا ؟ مہربانی کر کے میری رہنمائی فرمائیں ، مجھے آپ لوگ کسی بھی وقت کال کر کے معاملے کے بارے میں تفصیل حاصل کر سکتے ہیں۔
سائل کا مالک سے تنخواہ کے اضافہ کے متعلق بات کرنے پر اگر باہمی رضامندی سے سائل کی تنخواہ بڑھا کر ساٹھ ہزار طے پاگئی ہو ، اور کمپنی مالکان و فائنانس ذمہ داران اس کا اقرار بھی کرتے ہوں ، نیز اضافی رقم مانگنے پر ادائیگی کا وعدہ کرنے کے باوجود مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہوں ، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے اپنے حق کی وصولیابی کی خاطر کمپنی مالکان کے علم میں لاتے ہوئے کمپنی کا لیپ ٹاپ و موبائل فروخت کر کے اپنے حق کے بقدر رقم وصول کرنے کی شرعاً گنجائش ہے ، البتہ سائل کا اپنا حق وصول کرنے کے بعد جو اضافی رقم بچ جائے تو وہ رقم کمپنی کو لوٹانی لازم ہوگی ، جبکہ رقم کم ملنے کی صورت میں سائل کمپنی ہی سے بقیہ رقم کی وصولیابی کے لئے رجوع کرنے کا مجاز ہوگا ۔
کما فی رد المحتار تحت ( قولہ: ولو دینہ مؤجلا ) لانہ استیفاء لحقہ و الحال و المؤجل سواء فی عدم القطع استحساناً، لان التاجیل لتاخیر المطالبۃ و الحق ثابت فیصیر شبھۃ دارئہ و ان لم یلزمہ الاعطاء الآن ۔ ولا فرق بین کون المدیون المسروق منہ مماطلاً اولا خلافا للشافعی الخ
و فیہ ایضاً: ( قولہ: و اطلق الشافعی اخذ خلاف الجنس ) ای من النقود او العروض لان النقود یجوز اخذھا عندنا علی ما قررناہ آنفاً: قال القھستانی: و فیہ ایماء الی ان لہ ان یاخذ من خلاف جنسہ عند المجانسۃ فی المالیۃ، و ھذا اوسع فیجوز الاخذ بہ وان لم یکن مذھبنا، فان الانسان یعذر فی العمل بہ عند الضرورۃ کما فی الزاھدی: قلت: و ھذا ما قالو انہ لا مستند لہ، لکن رأیت فی شرح نظم الکنز للمقدسی من کتاب الحجر، قال و نقل جد والدی لامہ الجمال الاشقرفی شرحہ للقدوری ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق ۔ و الفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان لا سیما فی دیارنا لمداومتھم للحقوق الخ ( کتاب السرقۃ ج 4 صـــ 94 ط : سعید ) ۔