السلام علیکم ! میں امید کرتا ہوں کہ یہ سوال آپ کو اچھی صحت اور خوشی کی حالت میں پائے ، میں فی الحال ایک چھوٹے " کال سینٹر " میں کام کرتاہوں ، جہاں میں " کیمپینز " کاانتظام کرتاہوں ، جیسے : “Medicare”اور “Final expense”اور ACA Obema care ) ) مختصر یہ ہے کہ ہم اپنے " کلائنٹ " کی جانب سے لوگوں کو نئے انشورنس پلان خریدنے پر آمادہ کرتے ہیں ، بہر حال میں مطمئن نہیں ہوں ، کیونکہ یہ " کیمپینز " انشورنس کی بنیاد پر ہیں اور اسلام میں انشورنس حلال نہیں سمجھا جاتا ، ہر رات میں اس کی کوشش کرتا ہوں کہ کیسے یہ بات یقینی ہوجائے کہ میری " کال سینٹر " کی کمائی حلال ہے ؟ براہ مہربانی میری اس بارے میں رہنمائی کریں ۔
واضح ہوکہ مروجہ انشورنس ربا (سود) قمار (جوا) اور غرر (غیر یقینی کیفیت) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، لہذا کال سینٹر میں اس طرح کی ذمہ داری لینا کہ جس میں کلائنٹس کو کال کرکے انشورنس کروانے کی ترغیب دی جاتی ہو، تعاون علی المعصیۃ ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، بلکہ سائل اس کی وجہ سے گنہگار بھی ہورہا ہے، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ اس کام کے بجائے جلد از جلد دیگر حلال اور جائز ذریعہِ معاش تلاش کرنے کی فکر کرے، البتہ جب تک دیگر ذریعہ معاش کا انتظام نہ ہو، اس وقت تک مجبوری کی صورت میں سائل کے لئے اس کام کو برقرار رکھنے کی گنجائش ہے، لیکن متبادل میسر آتے ہی اس کام کو چھوڑنا سائل پر لازم ہوگا۔
کما قال اللہ تعالیٰ: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب(المائدۃ/2)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ولا خلاف بین اھل العلم فی تحریم القمار وان المخاطرۃ من القمار قال ابن عباس ان المخاطرۃ قمار۔اھ (2 /11)۔
وفیہ ایضاً: (ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان) نھی عن معاونۃ الغیر علی معاصی اللہ تعالیٰ۔اھ (3/296)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0