تعذیر و جرمانہ

مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار

فتوی نمبر :
69008
| تاریخ :
0000-00-00
عقوبات / حدود و سزا / تعذیر و جرمانہ

مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت قصداً گولی مار کر قتل کی گئی ہے، جس کا کیس عدالت میں چل رہا ہے ، مقتولہ کے شوہر ، والدین نے فی سبیل اللہ قاتل کو معاف کردیا ہے لیکن جج عدالت سے کیس ختم کرنے کے لئے قاتل سے مقتولہ کے بچوں کے لئے دیت کا مطالبہ کررہا ہے ، لہذا اس صورت میں ٹوٹل دیت کی رقم کتنی بنے گی ؟ اور مقتولہ کے بچوں کا دیت میں کتنا حصہ ہوگا ؟ جبکہ مقتولہ کے چار نابالغ بچے ( دو بیٹے اور دو بیٹیاں ) ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قتلِ عمد کی صورت میں مقتول /مقتولہ کے اولیاء کو قاتل سے قصاص لینے یا اسے معاف کردینے کا حق حاصل ہوتا ہے ، تاہم اگر مقتول /مقتولہ کے تمام ورثاء کے بجائے کوئی ایک یا چند بلا کسی معاوضہ قاتل کو معاف کردیں تو قاتل سے قصاص ساقط ہوجاتا ہے ، اور باقی ورثاء نے اگر قاتل کو معاف نہ کیا ہو تو ان کےحصص کے بقدر ان کے لئے قاتل کےذمہ دیت لازم ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مقتولہ کے والدین اور شوہر نے قاتل کو بغیر کسی معاوضہ کے معاف کیا ہو تو قاتل سے قصاص اور مقتولہ کے والدین اور شوہر کا دیت میں سے حصہ ساقط ہوچکا ہے ، چنانچہ کل دیت کے بہتر(72) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے ہر بیٹے کو دس (10) اور ہر بیٹی کو پانچ(5) حصے دیے جائیں ، جبکہ شوہر اور والدین کےبقیہ حصے معاف ہونگے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق : فإن صالح أحد الأولياء من حظه على عوض أو عفا فلمن بقي حظه من الدية) ؛ لأن كل واحد منهم متمكن من التصرف في نصيبه استيفاء و إسقاطا بالعفو و بالصلح ؛ لأنه يتصرف في خالص حقه فينفذ عفوه و صلحه فسقط به حقه من القصاص .( ۸ / ۳۵۳ )۔
و فی الفتاوى الهندية : إن صالح أحد الشركاء ‌من نصيبه على عوض ، أو عفا سقط حق الباقين عن القصاص و كان لهم ‌نصيبهم ‌من الدية و لا يجب للعافي شيء ‌من المال ، و إذا كان القصاص بين رجلين فعفا أحدهما فللآخر نصف الدية في مال القاتل في ثلاث سنين كذا في الكافي . و لو عفا أحد الوليين و علم الآخر أن القتل حرام عليه فقتل فعليه القصاص و له نصف الدية في مال القاتل ، و إن لم يعلم بالحرمة فعليه الدية في ماله علم بالعفو ، أو لم يعلم كذا في محيط السرخسی ، رجل قتل رجلين، و وليهما واحد فعفا الولي عن القصاص في أحدهما ليس له أن يقتله بالآخر كذا في الجوهرة النيرة۔ (6/ 21)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69008کی تصدیق کریں
1     1972
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خود اپنے نفس پر کسی گناہ کی سزا متعین کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • حکومت کے ظالمانہ ٹیکس کی ادائیگی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   تعذیر و جرمانہ 0
  • قسط کی عدم ادائیگی پر جرمانہ عائد کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • چوری کے پیسے واپس کرنے میں پکڑے جانے کا ڈر ہو تو کیا کریں؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • چوری شدہ مال اور اس سے حاصل شدہ منافع دونوں واپس کرنا لازم ہے

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • دس سالہ لڑکے کا بکری سے بدفعلی کرنا اور بکری سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • ملازم کی چوری کی وجہ سے اسکی تنخواہ اور فنڈ ضبط کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • پرندہ زورسے پکڑنےپر مرنے سے کوئی کفارہ دینا ہوگا؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • دیت لینے سے مقتول کو انصاف ملے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • صلح میں لڑکی کا نکاح کرانے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر بچے کو دوائی دینے سے اس کی موت کی صورت میں اس کی ماں پر کیا کفارہ آئے گا ؟

    یونیکوڈ   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات