والدین کے پیسے!سوال: السلام علیکم، میرے والدین کے پیسے میں اگر حرام کا پیسہ کم اور حلال پیسے حرام سے زیادہ ہو تو کیا میرے لئے حلال ہے؟ اور ان کی بچت کا کیا ہوگا کہ میں نہیں جانتا کہ اس میں سے کتنا حلال اور حرام ہے؟
سائل کو اگر والدین کی کمائی میں سے حرام کمائی کی مقد ار یقینی طور پر متعین اور معلوم نہ ہو , تاہم ان کی غالب اور اکثر آمدنی حلال ہوتو ایسی صورت میں سائل کیلئے اسے اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ،البتہ اگر سائل غالب گمان کے مطابق حرام آمدنی کے بقدر رقم صدقہ کرکے بقیہ مال و جائیداد اپنے استعمال میں لائے تو یہ زیادہ بہتر اور احتیاط پرمبنی عمل ہے ۔
کما فی الھندیۃ : و إذا مات الرجل و كسبه خبيث فالأولى لورثته أن يردوا المال إلى أربابه فإن لم يعرفوا أربابه تصدقوا به و إن كان كسبه من حيث لا يحل و ابنه يعلم ذلك و مات الأب و لا يعلم الابن ذلك بعينه فهو حلال له في الشرع و الورع أن يتصدق به بنية خصماء أبيه كذا في الينابيع.(5/349)۔
و فیہا ایضاً : (قال إسماعيل المتكلم) عليه ديون لأناس شتى لزيادة في الأخذ و نقصان في الدفع فلو تحرى ذلك و تصدق على الفقراء بثوب قوم بذلك يخرج عن العهدة قال - رضي الله تعالى عنه - فعرف بهذا أن في مثل هذا لا يشترط التصدق بجنس ما عليه كذا في القنية .(5/369)۔