کیا روزانہ نماز فجر کے بعد سورۃ یسین کی تلاوت کرنا ،اور اس کے لیے سورۃ یسین کے نسخے تقسیم کرنا درست ہے؟
فجر کی نماز کے بعد سورۃ یسین کی تلاوت کرنا بلاشبہ باعث اجروثواب ہے، اور احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت آئی ہے، اس لئے اگر کسی مسجد میں مقتدیوں کو پابند کیے بغیر، محض حصول ثواب کے خاطر اس کا اہتمام کیا جاتا ہو، اور لوگوں کی سہولت کی خاطر انہیں سورۃ یسین کے نسخے بھی تقسیم کیے جاتے ہوں، تو یہ ہر دوامور شرعا جائز اور درست ہے، تاہم اس کے لیے تمام مقتدیوں کو اس طرح پابند بنانا کہ ،کوئی مقتدی سورۃ یسین پڑھے بغیر نہ جاسکے، شرعا درست نہ ہوگا۔
کما فى أحكام القرآن للقرطبي: "عن شہر بن حوشب قال: قال ابن عباس رضي اللّٰہ عنه: من قرأ یٰس حین یصبح، أعطي یسر یومه حتی یمسي، ومن قرأہا في صدر لیلة أعطي یسر لیلته حتی یصبح" اھ(15/2)
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1