مفتی صاحب ، میں ایک اہم سوال یہ تھا کہ اگر بیوی کو شرمگا چومنے سے انجام تک پہنچانے میں اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔۔تو شوہر کو کرنا چاہیے .....
واضح ہو کہ شریعت نے میاں بیوی کے لیے جماع کےبھی آداب بیان فرمائیں ہے، کہ جماع کرتے وقت میاں بیوی بالکل بے لباس ہو کر جانوروں کی طرح ننگا ہو کر جماع نہ کریں، جبکہ جماع کرتے وقت ایک دوسرے کے شرمگاہ کو بوسہ وغیرہ دینے کی صورت میں ان آداب کی رعایت رکھنا ممکن نہیں ہوتا، بلکہ بسا اوقات بوسہ دینے کے ساتھ ساتھ جسم کے ناپاک ہونے کے باجود اس پر زبان بھی لگ جاتاہے، جو گندگی کو چاٹنے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔ اس لیے اس سے حد الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کما فی سنن ابن ماجہ:
"عن عتبة بن عبداللہ السلمي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتى أحدكم أهله فليستتر، ولا يتجرد تجرد العير»."
(کتاب النکاح ، باب التستر عند الجماع جلد ۱ ص : ۶۱۸ ط : داراحیاء الکتب العربیة)
وفی محیط البرھانی:
"إذا أدخل الرجل ذكره فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلا يليق به إدخال الذكر فيه، وقد قيل بخلافه."
(کتاب الاستحسان و الکراهیة ، جلد ۵ ص : ۴۰۸ ط : دارالکتب العلمیة ، بیروت ۔ لبنان)