السلام علیکم!
میں نے اپنی بیوی سے کچھ ایسے افعال کئے ہیں ،جس کی وجہ سے اب مجھے شبہ ہوتا ہے کہ ،ہمارا نکاح برقرار ہے یا نہیں؟
1-میں اپنی بیوی کا دودھ پی چکا ہوں۔
2.میں نے پیچھے سے اس کے ساتھ ہم بستری کی ہے۔
3.میں نے اسے بیٹی کی نقل کرتے ہوئے ، ماما پکار چکا ہوں۔
برائے مہربانی اب میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
(1)شوہر کیلئے بیوی کے پستان منہ میں لینا تو جائز ہے،البتہ اس دوران اگر دودھ منہ میں چلا جائے ، تو شوہر کیلئے اس کا پینا جائز نہیں ہے،بلکہ گناہ ہے،اس لئے اگر سائل نے بیوی کا دودھ پی لیا ہو ، تو وہ گناہ گار ہوا ہے،اس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اجتناب لازم ہے،تاہم ایسا کرنےسے سائل کے نکاح وغیرہ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
(2)سائل کا پیچھے سے سیکس کرنےسے مراد اگر یہ ہو کہ سائل نے بیوی سے اسکی پچھلی شرمگاہ یعنی پاخانہ والی جگہ میں دخول کیا ہو ، تو شرعا یہ گناہ ہے،ایسا کرنے والے کو حدیث مبارکہ میں ملعون کہاگیاہے،سائل کو چاہیئے کہ اس پر توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس ملعون عمل سے اجتناب کرے،البتہ اگر اس کی مراد یہ ہو کہ پیچھے کی جانب سے اس نے آگے والی شرمگاہ میں ہی دخول کیا ہو توایسا کرنا جائز ہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔
(3)جبکہ تیسرا سوال میں مذکور جملہ کہنے سے سائل اور اس کی بیوی کے رشتہ میں کوئی فرق نہیں پڑا،وہ حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں۔واللہ اعلم