میرا پرسنل ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہے جس سے میں کاروبار کرتا ہوں ،لوگوں کو بیلنس سینڈ کرتا ہوں اور جو مجھے سینڈ کرتے ہیں میں نقد رقم نکال کردے دیتاہوں ،بیلنس سینڈ کرتے وقت یا نکالتے وقت نیٹ ایم بی بھی استعمال ہوتاہےاور ظاہر ہے کہ میری ڈیوائس یعنی موبائل بھی استعمال ہوتاہے اور میرا وقت بھی اور کبھی کبھار کمپنی 15 یا 20 کاٹتی ہے، رات کوبیلنس چیک کرو اور صبح جب چیک کرو 15 یا 20 روپے کم ہیں، مارکیٹ میں ایزی پیسہ کاروبار کرنے والے ایک ہزار روپے سینڈکرنے یانکالنےپردس سے پندرہ روپے اجرت لیتے ہیں اور میں بھی لے رہاہوں، کیا اس صورت میں میرے لئے کاروبار جائز ہے؟ سود کے زُمرے میں تو نہیں آتا ؟میں بہت پریشان ہوں ،مفتی صاحبان اس بارے میں میری راہ نمائی فرمائیں!
مسئولہ صورت میں ایزی پیسہ کے ذریعہ سائل اگر رقم کی منتقلی یا نکال کر دینے کا کام کمپنی کے ساتھ منسلک ہوئے بغیر ذاتی حیثیت میں کرتا ہو،تو ایسی صورت میں سائل چونکہ کمپنی کا باقاعدہ ریٹیلر نہیں،اور کمپنی کی طرف سے اسے اس کام کا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا،لہذا پرسنل اکاؤنٹ کےذریعے اگر رقم کی منتقلی یا وصولی پر اضافی رقم لینےکی کمپنی کی طرف سے ممانعت نہ ہو توسائل کےلیےاس کام کے عوض کسٹمر سے اضافی چارجز وصول کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
کما فی العالمگیریۃ (4/413)
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل او باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي.
وفی قواعد الفقہ (ص: 57 قاعدۃ: 25)
استحقاق الاجرۃ بعمل لا بمجرّد قول.