صورتِ مسئلہ کچھ اس طرح ہے،زید تجارت کرتا ہے، جبکہ بکر اس کے کاروبار میں سرمایہ لگانا چاہتا ہے،بایں صورت کہ زید بطور وکیل بکر کی طرف سے ایک مخصوص مقدار میں مال کی خریداری کرتا ہے،مال کی رقم اور اخراجات کی ادائیگی بکر کی طرف سے ہوتی ہے، مال موصول ہونے پر بکر وہی مال زید کو ادھار پر فروخت کر دیتا ہے،معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا یہ طریقہ کار ازروئے شریعت درست ہے؟اگر نہیں تو صحیح طریقہ کیا ہونا چاہیئے ؟برائے کرم رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں
سائل نے سوال میں زید اور بکر کے درمیان ہونے والے معاملے کی جو صورت لکھی ہے یہ شرکت یا مضاربت وغیرہ کے ذریعے سرمایہ کاری کی صورت نہیں ،بلکہ یہ صورت فقط وکالت (وکیل بالشراء ) کی ہے ،جس میں بکر ،زید کو مخصوص مقدار میں سامان کی خریداری کا وکیل بناتا ہے ،چنانچہ اگر زید اور بکر وکالت کے اصول و ضوابط کا لحاظ رکھیں تو زید کا وکیل بن کر بکر کیلئے سامان خریدنا شرعاً جائز اور درست ہو گا ،لیکن کسی چیز پر قبضہ کرنے اور اسے اپنے رسک اور ضمان میں لانے سے قبل آگے کسی دوسرے شخص کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہو تا ،جبکہ وکیل بالشراء (خریداری کے وکیل ) کا قبضہ ،قبضہ امانت ہوتا ہے ،جو کہ قبضہ ضمان کا قائم مقام نہیں ہو تا ،لہذا زید کا بکر کیلئے سامان خرید کر اس پر قبضہ کر لینے کے بعد جب تک بکر از خود یا اپنے وکیل (بالقبض) کے ذریعے اس سامان پر قبضہ نہ کر لے تب تک اس کا وہ مال زید کو ادھار فروخت کرنا جائز نہ ہو گا ،البتہ از خود یا کسی وکیل کے ذریعے اس مال پر قبضہ کر لینے کے بعد بکر کیلئے زید کو یہ مال ادھار فروخت کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہو گا۔
فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر :(ويهلك) الرهن (على ملك) (الراهن فكفنه) أي كفن العبد الرهن أو الأمة المرهونة (عليه) أي على الراهن لأنه ملكه حقيقة وهو أمانة في يد المرتهن حتى إذا اشتراه لا ينوب قبض الرهن عن قبض الشراء لأنه قبض أمانة فلا ينوب عن قبض الضمان وإذا كان ملكه فمات كان عليه كفنه.(2/587)
وفی الهداية:ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد" لأنه باع مالا يملكه "ولا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد"؛ لأنه غير مقدور التسليم،(3/44)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0