محرم میں سبیل لگانا کیساہے؟
اگرچہ عام حالات اور ایام میں کسی وقت کی تخصیص یا باطل نظریات کی ترویج کے بغیر محض اللہ کی رضا کی خاطر لوگوں کو پانی وغیرہ پلانے کا انتظام کرنا بلا شبہ باعثِ اجر وثواب عمل ہے۔ تاہم اس عمل کیلئے محرم کے ابتدائی دس ایام کی تخصیص کرنا اور ان دنوں سبیل لگاکر لوگوں کو پانی وشربت پلانے کو عبات کا درجہ دے کر ثواب کا باعث سمجھنا، روافض کے ساتھ ان کے باطل نظریات کی ترویج میں مشابہت اور بدعت ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی سنن أبی داؤد: عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنهما قال قال رسول اللہ ﷺ من تشبه بقوم فهو منهم اھ (کتاب اللباس باب ماجاء فی الأقبیة. (۲/ ۲۰۳، ط: امدایة)-
وفی الدر المختار: (ومبتدع )ای صاحب بدعة وهی اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول الخ (کتاب الصلاة باب الإمامة (۱/ ۵۶۰، ط: سعید)-
وفی رد المحتار تحت (قوله أی صاحب بدعة) أی محرمة (إلٰی قوله) بأنها ما أحدث علٰی خلاف الحق (إلٰی قوله) وجعل دینا قویما وصراطا مستقیمًا اھ (کتاب الصلاة، باب الامامة البدعة خمسة أقسام. (۱/ ۵۶۰، ط: سعید)-
وفی مشکاة المصابیح عن عائشة رضی اللہ عنها قالت قال رسول اللہﷺ من أحدث فی أمرنا هذا ما لیس منه فهو ردّ. (متفق علیه)-
وفیه ایضًا عن جابر رضی اللہ عنه قال: قال رسول اللہﷺ أما بعد، فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الهدی هدی محمد، وشرّ الأمور محدثاتها، وکل بدعة ضلالة. (کتاب الإیمان باب الاعتصام بالکتاب والسنة ۱/ ۱۴۰، ط: البشرٰی) -
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1