کیا فرماتے ہیں حضرات علما ءِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا گاؤں ڈھوک بُدھال ( داخلی۔ نڑالی ) تحصیل گجر خان قصبہ کے جنوب میں ۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے، گاؤں کی آبادی تقریباً ۱۲۰۰ کے لگ بھگ ایک سو بیس گھرانوں پر مشتمل ہے، آبادی کے اندرایک مین گلی اور چند چھوٹی گلیاں ہیں، اس کے علاوہ بجلی اور گیس کی فراہمی موجود ہے، گاؤں میں دو پرائمری سکول اور دو مساجد اور پانچ دوکانیں، چارکریانہ اور ایک کپڑے کی دُکان موجود ہیں، جو چھوٹی چھوٹی ضروریات کو پورا کر رہی ہیں، مگر ہر قسم کی ضروریات کے لۓ خود کفیل نہیں، دو کلو میٹر قطر کے دائرہ میں واقع بڑے دیہاتوں کی چھ مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کی جار ہی ہے ،ہمارے گاؤں کے چند نمازیوں کی خواہش ہے کہ بستی کی مرکزی مسجد میں نمازِ جمعہ شروع کی جائے، کیا اس مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی صحیح ہے یا ظہر کی ہی نماز ادا کی جائے؟ وضاحت فرمادیں، فتویٰ درکارہے۔
اہلِ ڈھوک بُدھال ڈاکخانہ،فریال تحصیل گجرخان ضلع راولپنڈی۔
اصل یہ ہے کہ صحتِ جمعہ کے لۓ شہر و قصبات کا ہونا شرط ہے ، چھوٹے گاؤں اور دیہات میں نمازِ جمعہ کا قیام جائز نہیں، جبکہ قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس، پچاس متصل ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہو اور اس بازار میں ضروریاتِ روزمرہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں مثلاً جوتے کی دکان بھی ہو اور کپڑے کی بھی ، عطار کی بھی ہو، بزاز کی بھی، غلہ کی بھی،گھی کی بھی، دودھ کی بھی اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی،اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، اس تفصیل کی رو سے مذکور گاؤں قصبہ یا شہر کی تعریف میں داخل نہیں، اس لۓ یہاں جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا لازم ہے۔
في رد المحتار: تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق اھ(2/ 138)۔
وفي البحر: شرط ادائها المصرحتى لا تصح في قرية ولا مفازة لقول علىؓ ’’لاالجمعة ولاتشريق ولاصلاة فطر ولا أضحى الا في مصر جامع أوفى مدينة عظيمة‘‘ اھ ( ۲/۱۴۰)۔