السلام علیکم! محترم جناب مفتی صاحب! میں آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی قسم کے کوئی سے بھی واعظ کےبیان کے دوران جیسے کہ عیدین کا وعظ،جمعہ کے دن اور تبلیغی جماعت میں وعظ وغیرہ،کسی بھی قسم کا کوئی سا بھی ذکر کرنا شرعاً جائز ہے۔جزاک اللہ خیراً!
جمعہ کے عربی خطبہ کے دوران ذکر کرنا تو درست نہیں، البتہ اردو بیان یا کسی اور وعظ کے دوران ذکر کرنا اگرچہ جائز ہے، مگر اس سے کسی ایک طرف یکسوئی سے توجہ نہیں ہو سکتی، اس لئے کسی بھی وعظ کے دوران تسبیحات کو روک کر مکمل توجہ سے وعظ کو سنا جائے، تاکہ وعظ کا فائدہ حاصل ہو سکے۔
كمافي فتح القدير: (وإذا خرج الإمام يوم الجمعة ترك الناس الصلاة والكلام حتى يفرغ من خطبته) قال - رضي الله عنه -: وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله-، وقالا: لا بأس بالكلام إذا خرج الإمام قبل أن يخطب وإذا نزل قبل أن يكبر؛ لأن الكراهة للإخلال بفرض الاستماع ولا استماع هنا، بخلاف الصلاة؛ لأنها قد تمتد. ولأبي حنيفة - رحمه الله - قوله - عليه الصلاة والسلام – "إذا خرج الإمام فلا صلاة ولا كلام" من غير فصل، ولأن الكلام قد يمتد طبعا فأشبه الصلاة اھ. (2/67)