مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ
1۔ اگر حرام مال سے مسجد بنائی جائے تو بنانے والے اور نمازی کیلئے کیا حکم ہے ؟
2۔ اگر بنانے والی کی آمدنی میں حرام اور حلال ملا ہوا ہو تو پھر کیا حکم ہے ؟ دونوں سوالوں کے جواب الگ الگ دیں تاکہ واضح ہو جائے، جزاک اللّّّّّّّّّٰٗہ۔
واضح ہو کہ مسجد خدا کا گھر اور مقدس و پاکیزہ جگہ ہے، اس میں حرام و مشتبہ مال لگانا شرعاً جائز اور درست نہیں، بلکہ اس میں حلال اور پاکیزہ مال خرچ کرنا چاہیئے، تاہم اگر مسجد کی تعمیر کے بعد اس کا علم ہو تو اس کی مختلف صورتیں ہیں: مسجد کی زمین حلال مال سے خریدی گئی یا کسی نے اپنی حلال زمین مسجد کے لئے وقف کی، لیکن جو مرمت یا تعمیر کی گئی ہے اس میں حرام مال استعمال کیا گیا تو پھر اس میں دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ حرام مال یا تو دیواروں اور چھت پر لگایا گیا ہے یا فرش پر لگایا گیا ہے، اگر حرام مال دیوار یا چھت پر لگایا گیا ہے تو چونکہ اس صورت میں نماز پڑھتے وقت حرام کا استعمال اور اس سے مکمل انتفاع نہیں پایا جاتا، اس لئے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے، مگر حرام مال مسجد پر خرچ کرنے کا گناہ تو ہوگا۔
جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ مسجد کا فرش حرام یا مشتبہ مال سے بنایا گیا ہو اس صورت میں ایسے فرش پر نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، تاہم اگر اصل مالکان سے اس خرچ کردہ رقم کی اجازت لے لی جائے تو بہتر ہے اور اس صورت میں تعمیر منہدم کرنا ضروری نہیں، ورنہ بصورتِ دیگر مذکور تعمیر منہدم کرکے از سرِ نو مالِ حلال سے تعمیر کی جائے، تاکہ خدا کا گھر حرام سے بالکل پاک ہو جائے۔
کما فی سنن الترمذی : عن ابن عمرؓ عن النبيﷺ قال: لا تقبل صلاة بغير طهور و لا صدقة من غلول۔الحدیث (1/51)۔
و فی رد المحتار : (قوله لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا و مالا سببه الخبيث و الطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب ، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله۔اھ (1/658)۔