جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنا کیسا ہے؟ جہاں ساس اور سسر الحمد للّٰہ بالکل ٹھیک ہوں تندرست ہوں اور جہاں پر جوان ان دی ورلڈ ہو نند بھی ہو جو عقل شعور رکھتی ہو ہو اس کے بعد اگر بیوی اپنے شوہر کو کوئی بھی بات کہتی ہو اور آگے سے وہ یہ کہتا ہوں کہ میں اپنے سارے حقوق معاف کرتا ہوں لیکن تمہیں میرے گھر کے کام کرنے پڑیں گے کر کے گزرنے سب کو لے کر چلنا پڑے گا تو اس معاملے میں کیا کیا جائے ذرا رہنمائی فرما دیں اور انہی باتوں کی وجہ سے میاں بیوی کے جو رشتے ہیں آئے روز لڑائی ہو رہی ہو جبکہ کہ ان کی اپنی اولاد بھی ہو تو ایسے میں ایک لڑکی کو کیا کرنا چاہیئے ۔
مذکور عورت کو اگر جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے اس طرح الگ کمرہ ، کچن باتھ روم سمیت ملا ہو جس میں اشیاء ضروریہ رکھ کر اس میں تالا لگا سکتی ہو، کسی اور کا عمل دخل اس میں نہ ہوتو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ واجب رہائش کی ذمہ داری شرعاً پوری ہوجاتی ہے ،اس لئے بیوی کیلئے الگ رہائش کا مطالبہ تو درست نہیں ،البتہ سائلہ پر ساس و سسر کی خدمت قضاءً لازم نہیں ،تاہم سائلہ کا حسب استطاعت اخلاقاً و دیانۃً فرض بنتا ہےکہ وہ اپنے ساس وسسر کی خدمت کو سعادت سمجھ کر کر لیا کرے ،تاکہ سائلہ کا شوہر بھی راضی رہے،اور گھر کا ماحول بھی خوشگوار رہے۔
کما فی الھندیۃ: وإن قالت: لا أطبخ ولا أخبز قال في الكتاب: لا تجبر على الطبخ والخبز، وعلى الزوج أن يأتيها بطعام مہیا أو يأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز قالواإن هذه الأعمال واجبة عليها ديانة، وإن كان لا يجبرها القاضي كذا في البحر الرائق اھ (1/548)۔