ہمارے گاؤں میں ایک مسجد میں12سال سےجمعہ ہورہا ہے، جمعہ والے دن ۱۵۰/۲۰۰ افراد نماز پڑھتے ہیں جہاں کچھ دکانیں موجود ہیں لیکن زیادہ ضروریات کےلیے دوسرے بازار کا رخ کرنا ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے پانچ سومیٹر کے دائرے میں ایک اور مسجد بنائی گئی جہاں جمعہ قائم ہونے لگا، حالانکہ پہلی مسجد جمعہ کی شرائط اور تعداد پوری کرتی ہے، مسجد نمازیوں سےبھرجاتی ہے۔کیا اس صورت میں دوسری مسجد میں جمعہ جائز ہے ؟مزیدیہ کہ انہی دو مساجد سے ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر مرکزی جامع مسجد ہے وہاں بھی جمعہ ہوتا ہے، شرعی حکم سے آگاہ کریں۔ کیا ایک ہی مسلک کی مساجد میں اس طرح کم فاصلے پر جمعہ کرنا جائزہے؟
واضح ہو کہ شہر و قصبہ (جہاں صحتِ جمعہ کی شرائط موجود ہوں) میں متعدد مقامات پر جمعہ کی نماز ادا کرنا شرعاً جائز و درست ہے، خواہ وہ مساجد ایک دوسرے سے قریب ہوں، البتہ جامع مسجد میں جمعہ پڑھنا افضل ہے۔
لہذا سوال میں مذکور گاؤں میں اگر صحت ِ جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہو ں اور علماء کی تحقیق و اطمینان کےبعد وہاں جمعہ کی نماز شروع ہوگئی ہو ، تو ایسی صورت میں مذکور گاؤں میں بننے والی دوسری مساجد میں بھی قیام ِ جمعہ شرعاً درست ہوگا، تاہم نمازِ جمعہ کی ادائیگی جس قدر بڑے مجمعے میں کی جائے ، اسی قدر زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے،اس لیے علاقائی لوگوں کا محدود آبادی میں محض ذاتی رنجشوں اور اختلافات کی بناء پر متعدد مساجد میں قیامِ جمعہ کا اہتمام کرنا اور اجتماعیت کو منتشر کرنا درست نہیں ، جس سے احتراز چاہیے۔
کما فی الدر المختار : (وتؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة) مطلقا
و فی رد المحتار : تحت (قوله مطلقا) أي سواء كان المصر كبيرا أو لا وسواء فصل بين جانبيه نهر كبيركبغداد أو لا وسواء قطع الجسر أو بقي متصلا وسواء كان التعدد في مسجدين أو أكثر هكذا يفاد من الفتح، ومقتضاه أنه لا يلزم أن يكون التعدد بقدر الحاجة كما يدل عليه كلام السرخسي الآتي (قوله على المذهب) فقد ذكر الإمام السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة جواز إقامتها في مصر واحد في مسجدين وأكثر به نأخذ لإطلاق «لا جمعة إلا في مصر» شرط المصر فقط اھ (2/144)۔