کیا بارات اور ولیمہ ایک ساتھ ہو سکتا ہے؟ جبکہ نکاح ایک دن پہلے ہو جائے لیکن رخصتی نہ ہو۔
واضح ہو کہ ولیمہ کرنا مسنون عمل ہے ، جبکہ بارات کا کھانا نہ واجب ہے اور نہ ہی مسنون ہے ، بلکہ اگر لڑکی والے اپنی استطاعت کے مطابق نام و نمود وغیرہ سے بچتے ہوئے آنے والے مہمانوں کا اکرام کریں تو بلا شبہ جائز ہے ، لیکن اس کو لازم سمجھنا یا نام و نمود کی خاطر اس کا اہتمام کرنا یا اپنی وسعت سے بڑھ کر کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ ایسی صورت میں اس کا ترک کرنا واجب ہے ، جبکہ ولیمہ رخصتی اور شب زفاف کے بعد کرنا افضل اور بہتر ہے ،تاہم کسی مجبوری کی صورت میں رخصتی سے قبل مذکور بالا تفصیل کے مطابق بارات کے ساتھ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔
كما في صحيح البخاري: باب الوليمة ولو بشاة: فنزل عبد الرحمن بن عوف على سعد بن الربيع، فقال: أقاسمك مالي، وأنزل لك عن إحدى امرأتي، قال: بارك الله لك في أهلك ومالك، فخرج إلى السوق فباع واشترى، فأصاب شيئا من أقط وسمن، فتزوج، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أولم ولو بشاة» (7/ 24)
و في الفتاوى الهندية: ووليمة العرس سنة وفيها مثوبة عظيمة وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاما اھ (5/ 343)
وفیها أیضاً: ولا بأس بأن يدعو يومئذ من الغد وبعد الغد ثم ينقطع العرس والوليمة كذا في الظهيرية اھ (5/ 343) واللہ اعلم بالصواب