ولیمہ کی حقیقت کیا ہے ؟ ولیمہ کرنے کے لئے زوجہ کے ساتھ ملاپ کرنا ضروری ہے ؟
" ولیمہ " کی مشروعیت و مصلحت میاں و بیوی کے درمیان ہونے والے عقدِ نکاح کی تشہیر اور اس بات کا اعلان ہے، کہ دولہا و دلہن میاں و بیوی کے رشتہ میں جڑ چکے ہیں، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی بد گمانی و تہمتوں کا پہلے دن سے سدِ باب ہوجائے، جبکہ ولیمہ کرنا فی نفسہ مسنون ہے، اور راجح قول کے مطابق ولیمہ کا مسنون وقت رخصتی اور شبِ زفاف ( خواہ میاں بیوی میں ازدواجی تعلق قائم ہوچکا ہو یا نہیں ) کے بعد کا وقت ہے اور یہ افضل ہے، تاہم اس سے قبل بھی ولیمہ فی نفسہ جائز ہے، اس سے ولیمہ کی سنت تو ادا ہوجائے گی البتہ مسنون وقت پر ولیمہ کرنے کی سنت ادا نہ ہوگی۔
کما فی حجۃ البالغۃ: و فیھا مصالح کثیرۃ: ( منھا ) التلطف باشاعۃ النکاح وأنہ علی شرف الدخول بھا اذ لابد من الاشاعۃ لئلا ینقی محل لوھم الواھم فی النسب ، و لیتمیز النکاح عن السفاح بادی الرأی و یتحقق اختصاصہ بھا علی اعین الناس الخ ( مبحث فی صفۃ النکاح ص 130 ط: دارالکتب )۔
کما فی الھندیۃ: ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة، وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء، ويذبح لهم، ويصنع لهم طعامًا، وإذا اتخذ ينبغي لهم أن يجيبوا، فإن لم يفعلوا أثموا، قال عليه السلام: «من لم يجب الدعوة، فقد عصى الله ورسوله، فإن كان صائمًا أجاب ودعا، وإن لم يكن صائمًا أكل ودعا، وإن لم يأكل أثم وجفا»، كذا في خزانة المفتين ( کتاب لکراھیۃ، ج 5 ص 343 ط: ماجدیہ )۔
و فی عمدۃ القاری: وقد اختلف السلف في وقتها: هل هو عند العقد أو عقيبة؟ أو عند الدخول أو عقيبه؟ أو موسع من ابتداء العقد إلى انتهاء الدخول؟ على أقوال. قال النووي: اختلفوا، فقال عياض: إن الأصح عند المالكية استحبابه بعد الدخول، وعن جماعة منهم: أنها عند العقد، وعند ابن حبيب: عند العقد وبعد الدخول، وقال في موضع آخر: يجوز قبل الدخول وبعده، وقال الماوردي: عند الدخول، وحديث أنس: فأصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عروساً بزينب فدعي القوم، صريح أنها بعد الدخول وَاسْتحبَّ بعض الْمَالِكِيَّة أَن تكون عِنْد الْبناء وَيَقَع الدُّخُول عقيبها، وَعَلِيهِ عمل النَّاس الخ ( باب الصفرۃ المتزوج، ج 14 ص 112 ط: امدادیہ ملتان)۔
و فی اعلاء السنن: والمنقول من فعل النبي صلی الله علیه وسلم أنها بعد الدخول، کأنه یشیر إلی قصة زینب بنت جحش، وقد ترجم علیه البیهقي بعد الدخول، وحدیث أنس في هذا الباب صریح في أنها الولیمة بعد الدخول" الخ(باب استحباب الولیمۃ ج 11 ص 12 ط: ادارۃ القرآن) ۔واللہ اعلم