ولیمه

رخصتی کے بعد ولیمہ میں تاخیرکا حکم

فتوی نمبر :
4500
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / ولیمه

رخصتی کے بعد ولیمہ میں تاخیرکا حکم

السلام علیکم!
میرا نکاح پچیس اپریل کو ہوا لیکن رخصتی نہیں ہوئی , اب میں بیس مئی کو اپنی بیوی کو کویت بلا رہاہوں , اکیس مئی کو کویت میں رخصتی کی چھوٹی سی رسم ہوگئی , میری تنخواہ تیس تاریخ کو آتی ہے اس لئے میں ولیمہ تیس تاریخ کے بعد کرنا چاہتاہوں ,کیا ولیمہ تیس تاریخ کے بعد کیا جاسکتاہے یا اتنی دیر نہیں کرسکتے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ مذکور تاخیر میں بھی شرعاً حرج نہیں، تاہم اگر سائل دعوتِ ولیمہ کو مختصر رکھے اور بقدر ِضرورت کسی عزیز یا دوست وغیرہ سے اتنی رقم بطورِ قرض لےلے اور اپنا وظیفہ وصول کرکے یہ قرض ادا کردے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی المرقاة وقیل إنها تکون بعد الدخول، وقیل عند العقد، وقیل عندهما واستحب أصحاب مالك أن تکون سبعة ایام، والمختار أنه علی قدر حال الزوج. (۶/ ۳۶۶) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد العزیز غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4500کی تصدیق کریں
0     1049
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ولیمہ کی شرعی حیثیت اور اس کے مسنون وقت کا حکم

    یونیکوڈ   ولیمه 0
  • ولیمہ کے ساتھ رخصتی کرنا

    یونیکوڈ   ولیمه 0
  • رخصتی کے بعد ولیمہ میں تاخیرکا حکم

    یونیکوڈ   ولیمه 0
  • ولیمہ کا کھانا لوگوں کے گھروں میں دینا

    یونیکوڈ   ولیمه 0
  • رخصتی کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کر سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   ولیمه 0
  • کیا رخصتی والے دن ولیمہ کیا جا سکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   ولیمه 0
  • برات اور ولیمہ کی دعوت ایک ساتھ کرنا

    یونیکوڈ   ولیمه 0
Related Topics متعلقه موضوعات