السلام علیکم!
میرا نکاح پچیس اپریل کو ہوا لیکن رخصتی نہیں ہوئی , اب میں بیس مئی کو اپنی بیوی کو کویت بلا رہاہوں , اکیس مئی کو کویت میں رخصتی کی چھوٹی سی رسم ہوگئی , میری تنخواہ تیس تاریخ کو آتی ہے اس لئے میں ولیمہ تیس تاریخ کے بعد کرنا چاہتاہوں ,کیا ولیمہ تیس تاریخ کے بعد کیا جاسکتاہے یا اتنی دیر نہیں کرسکتے؟
اگرچہ مذکور تاخیر میں بھی شرعاً حرج نہیں، تاہم اگر سائل دعوتِ ولیمہ کو مختصر رکھے اور بقدر ِضرورت کسی عزیز یا دوست وغیرہ سے اتنی رقم بطورِ قرض لےلے اور اپنا وظیفہ وصول کرکے یہ قرض ادا کردے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
فی المرقاة وقیل إنها تکون بعد الدخول، وقیل عند العقد، وقیل عندهما واستحب أصحاب مالك أن تکون سبعة ایام، والمختار أنه علی قدر حال الزوج. (۶/ ۳۶۶) -