کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :
ہم دو (۲) بھائی شیر نواز ، سعید اللہ جان نے تقریباً ۱۸ ، ۲۰ سال پہلے وٹہ سٹہ میں اپنی اپنی لڑکیوں کا دوسرے کے بیٹوں کیساتھ عقد کیا ، عقد کیوقت بچوں کی عمریں ۳، ۴ سال تھیں ، جب عقد کرنے کا ارادہ کیا تو منگنی کی مجلس منعقد کی اور اسی نام سے شرکاء کو مدعو کیا ، چنانچہ اسی مجلس جس میں ایک مولوی اور ہم تین بھائی اور دوسرا ایک شخص شریک تھے ، ان حضرات کی موجودگی میں دوسرے شخص نے بغیر خطبہ اور حق مہر کے ہم دونوں بھائیوں سے الگ الگ ان الفاظ میں پوچھا کہ تم نے اپنی فلاں لڑکی فلاں کے فلاں لڑکے کو دی ؟ اور اسپر ہم نے ہاں کردی بس اور اسپر مجلس برخاست ہوگئی ، خاندان والے اسکو منگنی سمجھتے تھے ، کچھ عرصہ بعد ہم بھائیوں میں جھگڑا ہوگیا ، میں اپنی فیملی کیساتھ کراچی میں رہائش پذیر تھا اور آج تک ہوں ، جھگڑے کی وجہ یہ تھی کہ میں جب بھی گاؤں (بنوں) جاتا تو یہ لوگ شادی کا تقاضہ کرتے ، میں ان سے کہتا کہ لڑکی چھوٹی ہے جب شادی کے قابل ہوجائے تو کرلینا ابھی پڑھ رہی ہے ، آخرکار جب ایک مرتبہ پھر میں بنوں گیا تو پھر ان لوگوں نے شادی کا کہا اور میں نے وہی جواب دیا ، باتوں باتوں میں میرے بھتیجے کیساتھ تو تو میں میں ہوگیا اور گالی گلوچ ہاتھا پائی تک بات پہنچ گئی ، جھگڑے کے بعد میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ میری اور تمہاری رشتہ داری نہیں بن سکتی ،اسلیئے نہ میں تم کو اپنی لڑکی دوںگا اور نہ تمہاری لڑکی اپنے لڑکے کیلئے لیتا ہوں میرا تمہارا لڑکیوں کا لین دین بھائی بندی کا رشتہ داری سب کچھ ختم ، بھائی نے کہا کہ جب تم نے بات ختم کردی تو میری طرف سے بھی ختم ہے ، کچھ عرصہ بعد میرے بھائی نے اپنے لڑکے اور لڑکی دونوں کی شادیاں کردیں ، میں نے بھی اپنے لڑکے کی شادی کردی اور لڑکی کی شادی نہیں کی ، میرے بھائی کے بچوں کی شادی کے ۱۲ ،۱۳ سال ہوگئے ہیں اس لڑکی کے اب بچے ہیں ، اب میرا بھائی ڈیڑھ دو (۲) سال سے کراچی آیا ہوا ہے اور اتنے سالوں بعد میرا بھائی مجھ سے کہتا ہے کہ میرے لڑکے کا تمہاری لڑکی کیساتھ نکاح ابھی تک قائم ہے اور کہتا ہے کہ تم نے میری لڑکی چھوڑی تھی میں نے نہیں چھوڑی اور کہتا ہے کہ تم نے میری لڑکی کو طلاق دی ہے ، حالانکہ میرے منہ سے طلاق کے الفاظ نہیں نکلے ، میں نے یہ کہا تھا کہ نہ میں تم کو لڑکی دیتا ہوں اور نہ تمہاری لڑکی کو اپنے لڑکے کیلئے لیتا ہوں ، میرا بھائی لڑکی کا رشتہ اس بیٹے کیلئے مانگ رہا ہے جسکی شادی ۱۲، ۱۳ سال پہلے کرچکا ہے میری لڑکی کسی صورت میں بھی اس شادی شدہ لڑکے کیساتھ شادی کرنے کو تیار نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ بھائیوں نے جو عمل کیا ہے اس سے عقد نکاح ہو چکا ہے یا نہیں؟ اگر ہوچکا ہے تو والدین کے طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور طریق کار سے نکاح منعقد نہیں ہوا ،بلکہ یہ منگنی کےحکم میں ہے جوشرعاً ’’وعدۂ نکاح‘‘ کہلاتا ہے ، لہٰذا اگر کوئی مانعِ شرعی ہو تو مذکور جگہ عقد نکاح کرنے کی بجائے کسی دوسری مناسب جگہ بھی بچی کا عقد نکاح کیا جاسکتا ہے اور اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
و فی الشامیۃ : أو ھل اعطتینھا إن المجلس للنکاح و إن للوعد فوعد اھـ (ج۳ ص ۱۲)۔