کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ یہ ساری کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے یعنی اگر نبی علیہ السلام نہ ہوتے تو کائنات ، جنت اور دوزخ وغیرہ بھی نہ ہوتے ، سوال یہ ہے کہ جب یہ سب چیزیں اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیدا فرمائی ہیں ،تو رسول اللہ کو کس لیے پیدا فرمایا ؟ نیز اگر یہ بات صحیح ہے تو قرآن یا حدیث سے دلیل کے ساتھ واضح فرمائیں ؟
واضح ہو کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصدِ بعثت قیامت تک آنے والی ساری بنی نوعِ انسانی کو راہِ ہدایت کی طرف بلانا اور گمراہی و ضلالت کی راہ سے بچانا اور غلبۂ دین ہے ، جبکہ لوگوں سے سنی ہوئی بات تخلیقِ کائنات کے بے شمار مقاصد میں سے ایک ہے اور احادیثِ مبارکہ میں اس کی صراحت بھی ملتی ہے ، مگر یہ مقصد جس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اس کے بارے میں بعض علماء نے موضوع ہونے کا قول کیا ہے، لیکن وہ الفاظ سے متعلق ہے نہ کہ حقیقت اور اصل و معنیٰ کے متعلق ، کیونکہ بالمعنیٰ یہ حدیث صحیح ہے جس بزگ نے صغانیؒ کی طرف اسے موضوع کہنے کی نسبت کی ہے، انہوں نے ہی ،یعنی حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نےموضوعاتِ کبیر مطبع مجتبائی دہلی صفحہ نمبر 59 میں لکھا ہے کہ:
’’حدیث لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ قال الصغانی انہ موضوع کذا فی الخلاصۃ لکن معناہ صحیح فقد روی الدیلمی عن ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً اتانی جبرائیل فقال یا محمد لولاک ما خلقت الجنۃ و لولاک ما خلقت النار و فی روایۃ ابن عساکر لو لاک ما خلقت الدنیا اھ
۲۔ امام شہاب الدین احمد قسطلانی شارحِ بخاری نے کتاب مواہبِ لدینہ میں نقل کیا ہے کہ:
قال تعالیٰ: لاٰدم ، یا آدم یا ابامحمد ارفع راسک فرفع رأسک، فرأی نور محمد فی سرادق العرش فقال یا رب ما ھذا النور قال ھذا نور نبی من ذریتک اسمہ فی السماء احمد و فی الارض محمد لولاہ ماخلقتک و لا خلقت سماءک ولا ارضاً۔
۳۔ یہی روایت حضرت شیخ علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی بھی انوارِ محمدیہ میں لائے ہیں۔
۴۔ مذکور دونوں کتابوں (مواہبِ لدنیہ اور انوار ِمحمدیہ) میں حضرت کعب احبار تابعی کا قول منقول ہے ، حضرت کعب تورات اور انجیل کے بھی بڑے عالم تھے اور قرآن و حدیث کے بھی بڑے ماہر حضرت کعب فرماتے ہیں:
’’ان آدم و جمیع المخلوقات خلقوا لاجل محمد‘‘رواہ البیھقی۔
۵۔ حق تعالیٰ حدیثِ قُدسی میں ارشاد فرماتے ہیں :
’’لولاک لما اظھرت الربوبیۃ‘‘ (عطرالوردۃ فی شرح البردۃ از علامہ مولانا ذوالفقار علی دیوبندی)۔
۶۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ ’’نشر الطیب‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
عن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علی و سلم قال اللہ تعالیٰ لاٰدم یا آدم لولا محمد ما خلقتک رواہ الحاکم وصححہ البیھقی و الطبرانی
۷۔ قال اللہ تعالیٰ یاآدم لولا محمد ماخلقتک و ھو آخر الانبیاء۔( الدر النظیم فی مولد النبی الکریم مصری)۔
۸۔ علامہ امام زرمانی ’’شرح مواھبِ لدنیہ‘‘ جلد اول میں لکھتے ہیں:
و الحاکم عن ابن عباس رضی اللہ عنھما اوحی اللہ تعالیٰ إلی عیسی بن مریم یٰا عیسیٰ لولا محمد ماخلقت اٰدم و لا جنۃ و لا النار و روی الحاکم مثلہ و صححہ و رواہ السبکی و البلقینی
۹۔ قال تعالیٰ و عز تی و جلالی لولا محمد ماخلقت عرشا و لا کرسیا و لا سماء و لا جنۃ و لا ناراً و لا لیلاً و لا نہاراً و ما خلقت جمیع الاشیاء إلا اکراما للذی سمیتۃ محمد ( مولد النبی للقطب الربانی الشیخ عبد الرحیم البرعی)
(ماخوذ از: احسن الفتاویٰ بتصرف یسیر 1/ 484)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0