کھانا کھانے سے پہلے پانی پینا، درمیان میں پانی پینا اور کھانے کے بعد کچھ دیر تک پانی نہ پینا، کیا یہ سنت ہے؟جواب کا طالب ہوں حدیث کی روشنی سے،جزاک اللہ خیرا!
کھانے کے دوران پانی پینے کا مذکور طریقہ کسی حدیث مبارک سے ثابت نہیں ، لہذا اس کو ایک مسنون طریقہ سمجھ کر عمل کرنا شرعاًدرست نہیں، البتہ ایک طبی طریقہ ہے جو تجربہ سے صحت کے لیے مفید بھی ثابت ہوا ہے ، اس وجہ سے مذکور طریقے پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
کما فی صحيح البخاري : عن المغيرة رضي الله عنه قال : سمعت النبيﷺ إن كذبا علي ليس ككذب على أحد من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار (80/2)۔
وفى مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: "وإذا رمد وأمر" أي أمره طبيب مسلم حاذق أن لا يغسل عينه (الى قوله) جاز له المسح" للضرورة (ص: (60/59)۔
وفي الفتاوى الهندية: وأما الدرجة المتوسطة وهي المظنونة كالمداواة بالأسباب الظاهرة عند الأطباء ففعله ليس مناقضا للتوكل (355/5) ۔
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0