کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ سننِ زوائد بانمازِ مستحب جو کہ چار رکعت ظہر اور عصر اور عشاء کی نمازوں سے پہلے پڑھی جاتی ہیں اس کے اندر چونکہ یہ چار رکعت والی نماز ہے تو مصلیٰ نماز پڑھنے والا دو رکعت پڑھ کر تشہد میں بیٹھ گیا اب یہ شخص تشہد پڑھ کر کھڑا ہوگا بقیہ دو رکعت پڑھنے کیلئے یا درود شریف اور ادعیہ بھی پڑھ کر کھڑا ہوسکتا ہے ؟بہر کیف جب یہ شخص کھڑا ہوکر بقیہ دو رکعتوں کو ثناء یعنی سبحانک اللہم سے شروع کرے گا یا سورۂ فاتحہ سے شروع کرے گا؟ براہِ کرم مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔
سننِ زوائد یا نفل کی چار رکعات میں سے ہر شفع(دو رکعت) علیحدہ نماز ہے، لہٰذاان نمازوں کے قعدۂ اولیٰ میں تشہد درود شریف اور ادعیۂ ماثورہ بھی پڑھنی چاہئیں، نیز تیسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ثناء اور تعوذ سے ادا کرنی چاہیئے۔
وفی التنویر: ولا یصلی علی النبی ﷺ فی القعدۃ الاولٰی فی الاربع قبل الظہر والجمعۃ وبعدہا ولا یستفتح اذا قام إلی الثالثۃ منہا وفی البواقی من ذوات الاربع یصلی علی النبی ﷺ ویستفتح ویتعوذ۔ اھـ (ج۲، ص۱۶)۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0