محترم جناب مفتی صاحب ہماری رہنمائی فرمائی جائے اس مسئلہ میں کہ ہم اہلسنت والجماعۃ کا یہ عقیدہ ہے کہ کسی میت کے سات دن بعد تک ثواب کی نیت سے خیرات و صدقات کرنا جائز اور مستحب ہے، غلط قسم کے لوگ اسے بدعت اور حرام کہتے ہیں، اسے غلط کہنے والے غلط اور وہابی ہیں۔
اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک میت کے ایصالِ ثواب کیلئے دعا اور استغفار یا صدقہ وخیرات کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے مگر اس کیلئے شریعتِ حَقّہ نے کسی خاص دن اور تاریخ کی تعیین اور تخصیص نہیں فرمائی کہ اس خاص دن وغیرہ میں تو یہ کارِ خیر اور ثواب ہو ، اور بعد میں نہ ہو بلکہ مروّجہ قیودات مبتدعین کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہیں جن کے اہتمام کو حضراتِ فقہاءِ کرام نے ناجائز اور بدعت قرار دے کر ان سے احتراز کا حکم دیا ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے کسی کو موردِ ِطعن ٹھہرانا اور اس کی تغلیط کرنا درست نہیں بلکہ مسئلۂ شرعیہ سے ناواقفیت کی دلیل ہے اور اس سے احتراز لازم ہے۔
وفی البحر الرائق: لان ذکر اللہ تعالٰی اذا قصد بہ التخصیص بوقت دون وقت او بشیء دون شیء لم یکن مشروعًا حیث لم یرد بہ الشرع لانہ خلاف الشرع۔(ج۲، ص۱۵۹)۔
وفی رد المحتار : وفی البزازیۃ: ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث وبعد الاسبوع۔(ج۲، ص۲۴۰)۔
ومنہا التزام الکیفیات والہئیات المعینۃ کالذکر بہئیۃ الاجتماع علی صوت واحد (الی ان قال) ومنہا التزام العبادات المعینۃ فی اوقات معینۃ لم یوجد لہا ذٰلک التعیین فی الشریعۃ۔(ماخوذ راہِ سنت بحوالہ الاعتصام: ج۱، ص۴۳)۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1