کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا طوافِ کعبہ کی اجازت ہے ایک ہفتے کے لیے ،اور اس کا ثواب کسی زندہ یا مردہ کو دینے کی؟ وہ کیا کام ہے جن کا ثواب دوسروں کو دیا جاسکتا ہے اسلام کے نزدیک؟ کیا قرآن کی تلاوت اور دوسرے کسی عمل کا ثواب مردے کو پہنچتا ہے؟ کیا ایسا وفات پانے والے کا بیٹا کر سکتا ہے یا دوسرے لوگ؟
طوافِ بیت اللہ، قرآنِ کریم کی تلاوت اور دیگر نفلی صدقات اور نوافل وغیرہ پڑھ کر کسی بھی میت کو خواہ وہ اپنا کوئی عزیز بزرگ شخصیت ہو یا نہ ہو ،سب کو ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد جب ممکن ہو او ر وقت بھی جواز کا ہو تو حسبِ توفیق نوافل یا قرآنِ کریم کی تلاوت کر کے ایصالِ ثواب کرتے رہا کریں، امید ہے کہ ربِّ کریم اسے مقبول و منظور فرما کر مرحوم کےلیے ذریعۂ نجات اور ذخیرۂ آخرت بنائیں۔
ففی صحيح مسلم: «إن من البر بعد البر أن تصلي لأبويك مع صلاتك، وتصوم لهما مع صومك». (وفی ھامشه) أَنَّهُ يَصِلُ إِلَى الْمَيِّتِ ثَوَابُ جَمِيعِ الْعِبَادَاتِ مِنَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالْقِرَاءَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ (1/ ۱۲،۱۳)-
وفی حاشية ابن عابدين: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع اھ(2/ 243)-
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0