مکروھات نماز

اصحابِ صفہ کی سرگرمیاں اور کفالت کا انتظام کیا تھا؟

فتوی نمبر :
58909
| تاریخ :
1999-02-02
آداب / تعلیم و تعلم / مکروھات نماز

اصحابِ صفہ کی سرگرمیاں اور کفالت کا انتظام کیا تھا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
(الف) پیسے لے کر نماز پڑھانا درست ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو بحوالہ قرآن و حدیث واضح کردیں، جبکہ قرآن شریف میں ایک آیت جس کا مفہوم یہ ہے: ’’اور جو لوگ اللہ کی آیت بیچ کر پیسا لیتے ہیں اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں‘‘۔ اس کی بھی وضاحت فرمادیں۔
(ب) اصحابِ صفہ کی سرگرمیاں اور کفالت کا انتظام…؟
(ج) مدراس میں جو فیس لی جاتی ہے قرآن حفظ کرانے کی تجوید کی اور احادیث پڑھانے کی کیا یہ صحیح ہے؟ اور جو بڑے بڑے مدارس ہیں چندے کی مہم چلاتے ہیں کہاں تک درست ہے؟
(د) صحاح ستہ میں منکر نکیر اور عذابِ قبر کا ذکر ہے، دراصل ’’حزب اللہ‘‘ والے اس کی تردید کرتے یں کہ منکر نکیر کا کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ تینوں سوالات اپنی کم علمی کے سبب اتنا ہی لکھ سکا ہوں باقی آپ حضرات حزب اللہ کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے عقائد کیا ہیں، فیکٹری میں چند آدمی اس بات کو ہوا دے رہے ہیں اور لوگوں کا ذہن منتشر کرتے ہیں آپ حضرات قرآن کی آیت اور مکمل تفصیل سے رہنمائی فرمائیں تاکہ ہمیں اس بارے میں پتہ چل سکے اور اس کا سد باب کرسکیں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

الجواب حامدًا ومصلّیا
محترم سائل! امامت و خطابت اور درس و تدریس پر اُجرت (تنخواہ) لینے کے عدم جواز پر قرآن کریم کی جس آیت کریمہ کا آنجناب نے ترجمہ پیش کیا ہے پورے قرآنِ کریم میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جس کا ترجمہ وہ ہو جو آپ نے تحریر کیا ہے ایسا ترجمہ قرآن میں صراحۃً تحریف کے مترادف ہے، جو بہرحال ناجائز اور حرام ہے لہٰذا اول تو آنجناب اپنے اس فعل پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کریں اور آئندہ کیلئے اس قسم کا ترجمہ یعنی کچھ ایک آیت کا حصہ اور کچھ دوسری جگہ سے دوسری آیت کا حصہ لے کر اپنی خواہشات کے مطابق قرآنِ کریم کا ترجمہ اور مقصد بیان کرنے سے بھی مکمل احتراز کریں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ بظاہر بعض آیات و احادیث میں امامت و خطابت اذان اور درس و تدریس وغیرہ پر اُجرت لینے کے عدم جواز پر استدلال کیا گیا ہے مگر وہ درجِ ذیل وجوہات کی بناء پر ممانعت میں صریح نہیں ہیں:
(۱) یہ ممانعت اس شخص کیلئے ہے جس کا مقصد ان امور سے دنیا کمانا ہو اور وہ انہیں امور کو کسبِ معاش کا ذریع بنالے، البتہ جس کسی کا مقصد اشاعتِ دین ہو اس کیلئے قطعاً منع نہیں کیونکہ،
(۲) اگر یہ آیات و احادیث اُجرت لینے کی ممانعت میں صریح ہوتیں تو حضراتِ خلفاء راشدینؓ اور آئمہ مجتہدین، جمہور علماء کرام اور متاخرین فقہاء احناف ان آیات واحادیث کے خلاف اُجرت کے جواز کا کبھی بھی فتویٰ نہ دیتے۔
(۳) حالانکہ حضراتِ خلفاء راشدین نے اپنے اپنے دور میں ان حضرات کو وظیفے اور تنخواہیں دی ہیں اور ان حضرات کا عمل ہمارے لئے حجت ہے، فرمانِ نبوی ہے: ’’علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الرشدین‘‘۔ چنانچہ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ وہ معلّمین کو وظیفہ دیا کرتے تھے اور اسی طرح انہوں نے اپنے بعض عمّال کو پیغام بھیجا کہ جن لوگوں نے اپنے آپ کو تعلیمِ قرآن کریم کیلئے فارغ کردیا ہے انہیں وظیفہ دیا جائے۔
وفی نصب الرایۃ: وقد روی عن عمر بن الخطاب أنہ کان یرزق المعلّمین ثم أسند عن إبراہیم بن سعد عن أبیہ أن عمر بن الخطاب کتب إلٰی بعض عمّالہ أن أعط الناس علی تعلیم القرآن، انتہی کلامہ الخ (ج۴، ص۱۳۷)

(۴) نیز یہ وظیفہ (تنخواہ) ان امورِ دینیہ ’’اذان، نماز اور تدریس وغیرہ) کا معاوضہ نہیں ہے بلکہ ان حضرات کے اپنے وقت کو ان اُمور میں محبوس اور مشغول کرنے کا معاوضہ ہے جو جائز اور درست ہے اور اس کے جواز میں کسی کو بھی کلام نہیں۔
وفی البحر الرائق: (ورزق القاضی) یعنی وحل رزق القاضی من بیت المال لان بیت المال أعد لمصالح المسلمین ورزق القاضی منہم لانہ حبس نفسہ لنفع المسلمین وفرض النبی ﷺ لِعَلِی لمّا بعثہ الی الیمن وکذا الخلفاء من بعدہ ہذا اذا کان بیت المال جمع من ہل فان جمع من حرام وباطل لم یحل (الی قولہ) لانہ لو اشتغل بالکسب لما تفرغ لذالک وان کان غنیا فلہ ان یأخذ أیضا وہو الاصح۔ الخ (ج۸، ص۲۰۸)
مذکورہ بالا تفصیل سے بخوبی معلوم ہوگیا کہ ان امورِ دینیہ کی خدمات سرانجام دینے پر وظیفہ یا تنخواہ کا لینا نہ تو شرعاً ناجائز ہے اور نہ ہی عقلاً ناجائز ہے لہٰذا کسی شخص کا اسے ناجائز ا ورحرام سمجھنا خواہشاتِ نفسانیہ پر عمل کرنے اور شریعتِ مطہرہ کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔
اور یہ ایک ایسی مہلک بیماری ہے جو دیگر عبادات کو بھی ایسے ہی ختم کردیتی ہے جیسے آگ لکڑی کو، لہٰذا متعلقہ اشخاص پر پر لازم ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں سے اور عوام میں انتشار وافتراق پھیلانے سے احتراز کریں۔
(ب) اصحابِ صفہ کی سرگرمیوں سے سائل کی کیا مراد ہے اس کی وضاحت کرکے اس سوال کو دوبارہ دارالافتاء بھیج دیں انشاء اللہ اس کا بھی جواب دے دیا جائے گا۔
(ج) جن جن مدارس میں طلباء سے فیس لی جاتی ہے ان مدارس کے اس فیس کے متعلق اصول و ضوابط بھی تحریر فرمادیں، ان پر غور و فکر کے بعد اس کا حکم شرعی بھی بیان کیا جائے گا، اسی طرح جو چندہ لیتے ہیں یہ کون سی مد کا ہوتا ہے نیز دینے والوں کی نیت کیا ہوتی ہے اور پھر اسے واقعی اپنے مصرف میں خرچ بھی کیا جاتا ہے یا نہیں؟ براہِ کرم اس معاملہ کو بھی مکمل وضاحت فرمادیں اس کے بعد اس سوال کو دوبارہ ہمارے دارالافتاء بھیج دیں انشاء اللہ اس کا حکمِ شرعی بھی بیان کیا جائے گا۔
(د) محترم آپ نے خود تحریر کیا ہے کہ صحاح ستہ میں منکر نکیر اور عذابِ قبر سے متعلق احادیث ہیں جن میں سے چند درجِ ذیل ہیں:
(۱) عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا ان یہودیۃ دخلت علیہا فذکرت عذاب القبر فقالت لہا أعاذکِ اﷲ من عذاب القبر فسألت عائشۃُ رسول ﷲ ﷺ من عذاب القبر فقال نعم عذاب القبر حق۔ (بخاری: ج۱، ص۱۸۳)
(۲) عن اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ عنہما قالت قام رسول اﷲ ﷺ خطیبا فذکر فتنۃ القبر التی یفتتن فیہا المرأ فلما ذکر ذلک فصیح المسلمون ضیحۃً۔ (رواہ البخاری: ج۱، ص۱۸۳۔ قدیمی کتب خانہ)
(۳) عن أبی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ قال قال رسول ﷲ ﷺ إذا أقبر المیت أو قال أحدکم أتاہ ملکان أسودان أزرقان یقال لأحدہما المنکر والأخر النکیر۔ (جامع الترمذی: ج۱، ص۲۰۵۔ ایچ ایم سعید کمپنی)
مذکورہ أحادیث کا ترجمہ ترتیب وار ملاحظہ ہوں:
(۱) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی اور عذابِ قبر کا تذکرہ کیا اور اس نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تجھے عذابِ قبر سے پناہ میں رکھے تو حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا عذابِ قبر کے بارے میں تو آپ نے فرمایا کہ ہاں عذابِ قبر حق ہے۔
(۲) حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے وعظ فرمایا اور عذابِ قبر کا ذکر کیا جس میں انسان مبتلا ہوتا ہے جب صحابہؓ نے یہ بات سنی تو چیخ اُٹھے۔
(۳) حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب مردہ کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو دو فرشتے کالے اور کیری آنکھوں والے اس کے پاس آتے ہیں جن میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔
لہٰذا اب آپ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ ایک طرف نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ارشادات اور فرمان ہیں اور دوسری طرف اُن لوگوں کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں جو آپ کے ساتھ کام کرتے ہیں…؟ اور کس کی بات ماننے میں دنیا وآخرت کی کامیابی ہے یہ بھی ہر شخص بخوبی جانتا ہے۔ …………………………………………… واﷲ اعلم وعلمہ أتم وأحکم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58909کی تصدیق کریں
0     1060
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حرام رقم سےسلوائے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنےکاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • آدھی آستین والی شرٹ پہن کر نماز پڑہنا کیسا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروھات نماز 2
  • جماعت شروع ہونے کے بعد پیشاب شدت سے آجائے تو کیا کریں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروھات نماز 2
  • بغیر ٹوپی کی نماز یا مسجد کی ٹوپی استعمال کرنا - حالتِ روزہ میں شیو کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • کیا نقاب اوڑھ کر نماز ادا کی جاسکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • کیا نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • کراہت تحریمی سے ادا کی ہوئی نماز کا اعادہ کب واجب ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 5
  • کیا عورت نماز جوڑی دار پاجامے میں پڑھ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • آئینہ (شیشہ) کے سامنے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • نماز کی دونوں رکعتوں میں ایک سورت مکرر پڑھی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروھات نماز 0
  • سودی لین دین کرنے والے شخص کی امامت مٰیں نمازپڑھنے کاحکم

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • انعمتَ اور انعمتہ نام رکھنا

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 1
  • وضو کے بعد کی مسنون دعا اور انگلی اٹھانا

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • ہاف آستین پہن کرنمازپڑھنا

    یونیکوڈ   انگلش   مکروھات نماز 0
  • منفردکابلندآوازمیں تلاوت کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مکروھات نماز 0
  • مقتدی کادوسراسلام امام سے پہلے پھیرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مکروھات نماز 0
  • عمامہ (پگڑی) کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 2
  • سائنس سے اسلام کی حقانیت

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • ’’وَلَا الضَّالِّينَ‘‘ کے ضاد کو صاد پڑھاجائے گا یا ضاد؟

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 1
  • حضرت مریم کے ساتھ ’’علیہا السلام‘‘ لکھنا

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • ’’۷۸۶‘‘ ہندسے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • اجتہاد کے شرائط واہلیت

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 1
  • کیا خدا کوئی ایسا بڑا پتھر بنا سکتا ہے جو وہ خود نہیں اٹھا سکتا؟

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
  • سنتوں کے دوران امام صاحب کا منبر پر بیٹھے رہنا

    یونیکوڈ   مکروھات نماز 0
Related Topics متعلقه موضوعات