السلام علیکم! ہم یقین کرتے ہیں کہ گھر میں کتا رکھنا درست نہیں ہے ، کیونکہ فرشتے نہیں آتے ہیں، اور اگر کتا ہمیں چھوُ لے تو ہم ان کپڑوں سے نماز نہیں ادا کر سکتے ہیں، لیکن میں نے اپنی دادی/نانی سے سنا ہے کہ جنت کے دروازے پر ایک ’’قطمیر‘‘ نامی کتا بیٹھا ہے، جو اس دروازے کی حفاظت کر رہا ہے، اگر کتا ناپاک ہے تو پھر یہ جنت کے دروازے کی رکھوالی کیوں کر رہا ہے، اور اگر وہ جنت کے دروازے پر بیٹھا ہے تو ہم اس کو گھر پر کیوں نہیں رکھ سکتے ؟
اگر کتا چھوُلے تو کیا انہی کپڑوں سے ہم نماز ادا کر سکتے ہیں؟ میری بہن برطانیہ میں ہے صبح جب وہ ریل کے ذریعے اپنی ملازمت پر جاتی ہے، ریل پوری طرح بھری ہوتی ہے، کچھ لوگ اپنے کتوں کو بھی سفر پر ساتھ لے کر جا رہے ہوتے ہیں، اس کیفیت میں اس کے لیے بڑی مشکل ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو کتے کے چھونے سے بچائے ، گو کہ وہ تو کوشش کر تی ہے، اس پر شرعاً کیا حکم ہے؟
’’قطمیر‘‘ اصحابِ کہف کے کتے کا نام ہے، جن کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی مصاحبت کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرمائیں گے، مگر آخرت کے معاملہ کو دنیا پر قیاس کرنا درست نہیں، کہ جو چیز یہاں حرام یا نجس ہو وہاں بھی ایسی ہو، اس لیے بہت ساری اشیاء یہاں ممنوع ہیں اور وہاں درست، جیسے شراب دنیا میں نجس اور اس کا پینا حرام ہے ، مگر آخرت میں ایسا نہیں، اس لیے کہ دنیا دار التکلیف اور آخرت دار الجزاء ہے۔
ففی تفسير روح المعاني: ﴿في قوله تعالى: وَثامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ﴾ وفي اسمه فأخرج ابن أبي حاتم عن الحسن أنه قطمير،(إلی قوله) وجاء في شأن كلبهم أنه يدخل الجنة يوم القيامة. (8/ 215)-
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0