کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ’’۷۸۶‘‘ کے ہندسوں سے لوگ’’ بسم اللہ‘‘مراد لیتے ہیں، آیا یہ درست ہے؟ اور کیا ان ہندسوں کا بھی ویسا ہی احترام واجب ہے،جیسا کہ ’’بسم اللہ‘‘ کا احترام کرنا واجب ہے اور اس سے ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ والا ہی مقصود حاصل ہوتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
سوال میں مذکور عدد ’’۷۸۶‘‘ نہ تو بسم اللہ ہے اور نہ اسے پڑھنے یا لکھنے سے بسم اللہ والا ثواب ملتا ہے اور نہ اس کا لکھنا بسم اللہ کے حکم میں ہے، بلکہ علمِ ہندسہ کے اعتبار سے ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ کے حروف کے ’’۷۸۶‘‘ ہندسے بنتے ہیں۔ اور دورانِ کتابت’’ بسم اللہ‘‘ پڑھنے کے بعد بطورِ علامت یہ عدد لکھے جاتے ہیں تاکہ کلماتِ مبارکہ کسی قسم کی بے ادبی وغیرہ سے محفوظ رہیں۔ اور لکھنے والے کو بھی علم ہو جائے کہ کاتب نے اپنی کتابت اللہ تعالیٰ کا مبارک نام پڑھنے کے بعد شروع کی ہے۔
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0