1. کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا صحابی کے سوا کسی تابعی کے نام کے ساتھ لفظ’’ رضی اللہ عنہ‘‘ کہنا یا لگانا جائز ہے؟
2. بدعتیوں (بریلوی) کی اقتدا میں نماز جائز ہے یا نہیں اور کیا ان کے عالم کو کافر کہہ سکتے ہیں؟
1. بہتر اور مستحب یہ ہے کہ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کا خطاب اصحاب نبی علیہ السلام کے لیے اور رحمہ اللہ کا تابعین وتبع تابعین کے بزرگان دین مرحومین کے لیے استعمال کیا جائے۔ اور اگر کسی نے اس کے برعکس بھی کہہ دیا تو تب بھی جائز ہے اور اس پر کوئی گناہ لازم نہیں ہوگا۔ تاہم ان دُعائیہ کلمات میں غیر محتاط رویّہ سے اجتناب چاہیے تاکہ بے علم لوگ اشتباہ میں نہ پڑیں۔
2. بلاوجہ کسی مسلمان کو کافر کہنا جائز نہیں۔ بہرحال اس روش سے احتراز لازم ہے، البتہ جو شخص بدعات و رسومات کا مرتکب ہو اس کی اقتداء میں نماز مع الکراہت ہوتی ہے۔ اور ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام نہیں بنانا چاہیے۔ اور جب تک کسی نیک وصالح شخص کا انتخاب نہ ہو سکے اس وقت تک اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ ایسے شخص کا اقتداء میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرے۔ اور اگر کوئی امام مشرکانہ قسم کے عقائد کا حامل ہو اور اس میں شدّت سے کام لیتا ہو ،تو اس کی مکمل وضاحت لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیا جائے۔
ففی الدر المختار: (ويستحب الترضي للصحابة) (إلی قوله) (والترحم للتابعين ومن بعدهم من العلماء والعباد وسائر الأخيار وكذا يجوز عكسه) الترحم للصحابة والترضي للتابعين ومن بعدهم (على الراجح) ذكره الکرماني وقال الزيلعي الأولى أن يدعو للصحابة بالترضي وللتابعين بالرحمة ولمن بعدهم بالمغفرة والتجاوز اھ(6/ 754)-
ففی الدر المختار: (ويكره إمامة عبد وأعرابي وفاسق وأعمى إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى (ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول (إلی قوله) (لا يكفر بها) (إلی قوله) (وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) (1/ 560)-
وفی بدائع الصنائع: وذکر فی المنتقی روایة عن أبی حنیفة أنه کان لایری الصلوٰة خلف المبتدع والصحیح أنه ان کان هوی یکفره لاتجوز وإن کان لایکفره تجوز مع الکراهة اھ (ص: ۱۵۷)- واللہ أعلم بالصواب
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0