محترم جناب مفتیان صاحبان!
مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کے لفظ ’’وَلَا الضَّالِّينَ‘‘ کے ضاد کو نماز میں صاد پڑھا جائےگا یا ضاد، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ صاد پڑھیں گے۔ براہ ِکرم صحیح مسئلہ بتا کر راہنمائی فرمائیں، آیا لفظ صاد پڑھنے سے نماز درست ہوگی یا نہیں ؟
’’وَلَا الضَّالِّينَ‘‘ میں صحیح حرف ضاد ہی ہے، جس کا مخرج ’’حافہ لسان اور اُن سے دائیں یا بائیں متصل ڈاڑھیں‘‘ ہیں اور اس کی آواز ظاء کے مشابہ ہے نہ کہ کسی اور حرف کے ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اس حرف کی بجائے ’’صاد‘‘ پڑھنا قطعاً غلط ہے اور قصداً ایسا پڑھنے سے شرعاً نماز بھی ادا نہیں ہوگی۔ واللہ أعلم بالصواب!
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0