کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ شرع عظام بیمہ پالیسی کے بارے میں کہ بیمہ کی اسلام میں اجازت ہے کہ نہیں؟ یعنی جواز اور عدم جواز؟ اور بیمہ سے حاصل ہونے والی رقم جو سود کے پیسے ہوتے ہیں اور عام لوگ اس کو منافع سمجھتے ہیں اور اس کو حلال و جائز خیال کرتے ہیں، اسی رقم سے حج ادا کرنا اور اس پر زکوٰۃ کے وجوب کا کیا حکم ہے؟ اور حج جائز ہوجائے گا یا نہیں؟ اور اس سے حاصل شدہ رقم کو حج کے علاوہ اپنے ضروریات میں خرچ یا کسی کارِ خیر ’’مسجد و مدرسہ‘‘ وغیرہ میں خرچ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ بینوا توجروا!
مروّجہ بیمہ پالیسی ربٰو اور قمار کا مجموعہ ہے جو کہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم چونکہ حرام ہے اس لئے اس سے حج کرنا یا دوسرے کارِ خیر یا اپنی ضروریات میں لگانا سب ناجائز ہے بلکہ اس مال حرام کو بغیر نیتِ ثواب کے صدقہ کردینا لازم اور ضروری ہے۔
لیکن اگر کسی نے اس مالِ حرام سے حج کر ہی لیا اگرچہ فرض تو اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا مگر غیر مقبول ہونے کی وجہ سے اس پر ثواب حاصل نہ ہوگا۔
جہاں تک اس حرام مال پروجوبِ زکوٰۃ کا تعلق ہے سو اگر یہ مال الگ ہو اور دوسرے حلال مال کے ساتھ مخلوط نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ کل واجب التصدق ہے، اور اگر یہ حرام مال حلال مال کے ساتھ اس طور پر خلط ہوگیا ہو کہ اب ان دونوں میں تمیز ممکن نہ ہو تو اس صورت میں اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، تاہم احتیاط اس میں ہے کہ ایک اندازہ کے مطابق حرام مال کے بقدر صدقہ کردیا جائے۔
فی الدر المختار من کتاب الحج: وقد یتصف بالحرام کالحج بمال حرام وفی رد المحتار قولہ کالحج بمال حرام کذا فی البحر والاولیٰ التمثیل بالحج ریاءً وسمعۃً فقد یقال ان الحج نفسہ الذی ھو زیارۃ مکان مخصوص الخ لیس حرامًا بل الحرام ھو انفاق المال الحرام ولا تلازم بینھما (الٰی قولہ) مع انہ یسقط الفرض عنہ معھا ولا تنافی بین سقوطہ وعدم القبول فلا یثاب لعدم القبول ولا یعاقب تارک الحج۔ اھ (ج۲، ص۴۵۶)۔
وفی الدر المختار من کتاب الزکاۃ: ولو خلط السلطان المال المغضوب بمالہ ملکہ فتجب الزکاۃ فیہ ویورث عنہ لان الخلط استھلاک اذا لم یمکن تمییزہ عند ابی حنیفۃ وقولہ ارفق اذ قلما یخلو مال عن غصب وھذا اذا کان لہ مال غیرما استھلکہ بالخلط منفصل عنہ یوفی دینہ والا فلا زکاۃ کما لو کان الکل خبیثًا کما فی النھر عن السعدیۃ۔ اھ
وفی رد المحتار عن القنیۃ لو کان الخبیث نصابًا لا یلزمہ الزکاۃ لان الکل واجب التصدق علیہ فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ۔ اھ (ج۲، ص۲۹۰، و ج۲، ص۲۹۱)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0