ہم پے رول فنانسنگ سروسز کے لئے درخواست دینا چاہتے ہیں، جس میں ہمیں ہر مہینے کی پہلی تاریخ سے فنانسنگ ملے گی، فنانسنگ کمپنی ہماری طرف سے تنخواہیں ادا کرے گی اور ہمیں اس کی ذمہ داری ہر ماہ کی (25) تاریخ کو ادا کرنی ہوگی , بدلے میں فنانسنگ کمپنی روپے وصول کرے گی، ہر ملازم کی تنخواہ کے بدلے سو (100) اور فنانسنگ کمپنی کو ادائیگی میں تاخیر پر اضافی سود وصول کریں گے ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ حلال ہے یا حرام ؟
واضح ہو کہ قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط نفع حاصل کرنا شرعاً سود ہے، جس پر قرآن وحدیث میں سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں فنانسنگ کمپنی کا سائل کی طرف سے ملازمین کو تنخواہ دینا فقہی لحاظ سے قرض ہے، جس پر کمپنی کا مذکور رقم سے زائد فی ملازم سود وصول کرنا یا تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں اضافی رقم وصول کرنا سود ہونے کی بنا پر شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی:الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (سورۃ البقرۃ ایۃ 275)۔
وفی ردالمحتار:والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم،وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه(5/99)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0