السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا کار انشورنس کے متعلق سوال ہے، گزشتہ عرصہ میں نے کبھی کار نشورنس نہیں کروایا، لیکن اس لحاظ سے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے، کیا اسلامی تکافل سے اپنی گاڑی جو کہ قیمت میں ملین تک ہے، انشور کر واسکتا ہوں؟ یا بالکل ا نشورنس ممنوع ہے؟
مروّجہ انشورنس کا بیشتر کام ربا اور قمار اور دیگر شرائط فاسدہ پر مبنی ہوتا ہے، جس کی بناء پر ان کی کوئی پالیسی لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے،تاہم اگر اس قسم کی پالیسی لینا ضروری ہو تو مستند مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق اپنے معاملات سر انجام دینے والی کسی تکافل کمپنی سے پالیسی لی جاسکتی ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0