اگر کسی جماعت نے پیسہ لوگوں سے اس مقصد سے لیا ھو کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کریں گے اور وہ جماعت کے کسی کارکن کے پاس بطور امانت کے رکھوا دیا جاۓ اور وہ شخص ان پیسوں میں سے بغیر اجازت کے ذاتی ضرورت کے لیۓ خرچ کر لے اور بعد میں اتنے ھی پیسےامانت کے پیسوں میں واپس رکھ دے۔ تو کیا یہ پیسہ بغیر اجازت کے خرچ کرنا اس کے لیۓ جائز ھے یا حرام⸮ چاھے وہ اتنے ھی پیسے بعد میں واپس رکھ دے جتنے خرچ کیۓ تھے۔
واضح ہو کہ کسی بھی جماعت یافرد کارفاہی کاموں کے نام پر لوگوں سے جمع کردہ رقم کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے، جس میں متعلقہ مصرف میں خرچ کرنے کے بجائے دوسرے جگہوں پرخرچ کرنا شرعادرست نہیں بلکہ خیانت کے زمرے میں آتاہے، اس لیےمذکورجماعت کے کارکن کا اس امانت کی رقم کو ذاتی کام میں استعمال کرناشرعاجائز نہیں تھا، بلکہ امانت میں خیانت کی وجہ سے وہ خرچ کردہ رقم کے بقدر ضامن بن چکاتھا، لیکن جب بعد میں انہوں نے وہ خرچ کردہ رقم واپس جمع کرادی، تو اس سے وہ ضمان سے تو بری ہوگیا، لیکن اصل مالکان کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے اور امانت میں خیانت کی وجہ سے جو گناہ سرزدہوا، اس پر توبہ استغفار اور آئندہ کے لیے احتیاط لازم ہے۔
قال سبحانہ وتعالی:
فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه(بقرة: ۲۸۳)
ترجمہ: ”تو جو امین بنایا گیا ا س کو چاہیے کہ اپنی امانت ادا کرے اورچاہیے کہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرے “
"وعن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: «لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له» . رواه البيهقي في شعب الإيمان" (کتاب الایمان، الفصل الثانی، 1/17)
ترجمہ:”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : بہت کم ایسا ہوتا کہ نبی کریم ﷺ ہم سے بیان کرتے اور یہ نہ کہتا ہوں کہ جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں “۔
وفی الفتاوی الھندیۃ:
"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه ، كذا في الشمني .الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن ، وإن فعل شيئا منها ضمن ، كذا في البحر الرائق " اھ( 4 /338 )