محترم جناب میں دو مختصر سوال پوچھنا چاہتا ہوں ۔ مجھے اس کا جواب جلدی دیجیے ۔ (1) کیا یہ جائز ہے کہ خاوند و بیوی دوران مباشرت یا بطور تلعب ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو دیکھ سکتے ہیں ؟ (2) کیا خاوندو بیوی کو مکمل لباس اتار کر مباشرت کی اجازت ہے؟
1۔ میاں بیوی کا ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو دیکھنا اگرچہ جائز ہے تاہم اس سے احتراز بہتر ہے۔
2۔ بالکل برہنہ ہو کر مباشرت کرنے کی حدیث میں ممانعت آئی ہے۔ اس لیے مباشرت کےد وران کوئی بڑی چادر وغیرہ اوڑھ کر ستر کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: إذا كانت المرأة زوجة: جاز للزوج اللمس والنظر إلى جميع جسدها، حتى فرجها باتفاق المذاهب الأربعة، والفرج محل التمتع. ولكن يكره لكل منهما نظر الفرج من الآخر، ومن نفسه بلا حاجة، وإلى باطنه أشد كراهة، قالت عائشة رضي الله عنها: «ما رأيت منه، ولا رأى مني» أي الفرج اھ (4/ 2650)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله والأولى تركه) قال في الهداية: الأولى أن لا ينظر كل واحد منهما إلى عورة صاحبه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «إذا أتى أحدكم أهله فليستتر ما استطاع ولا يتجردان تجرد العير» اھ (6/ 366) والله تعالیٰ اعلم