السلام عليكم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
سوال یہ ہے کہ زید متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے، اور ایک کمپنی میں مؤظف ہے، اور یہاں کی کمپنیوں کا ایک قانون ہے کہ ہر سال تمام مؤظفین کو فقط دو ماہ کی چھٹیاں ملتی ہیں ، لہذا زید کے لئے اکیلے دس ماہ گزارنا بڑا مشکل تھا لہذا اس اقامت کے دوران اس نے دوسرا نکاح کرلیا تا کہ عفت داری بچی رہے اور اس نے پہلی بیوی کو خبر نہیں کی اپنے نکاح کی، لیکن اب وہ اس بات سے پریشان ہے کہ وہ پہلی بیوی اور دوسری بیوی کے مابین غیرعدل کا معاملہ کر رہا ہے چونکہ وہ سال کے دس ماہ دوسری بیوی کے پاس ہے اور فقط دو ماہ اپنے وطن کی پہلی بیوی کے پاس، جبکہ زید پہلی بیوی کے تمام حقوق ادا کر رہا ہے، لیکن زید اپنی پہلی بیوی کوامارات میں رکھنے پرقادر نہیں ہے،یہاں کے خرچوں کی وجہ سے، تو اب اس صورت میں زید کو شرعاً کیا کرنا چاہیئے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمادیں گے تو عین نوازش ہوگی۔
زید پر دونوں بیویوں کے درمیان برابری کا معاملہ کرنا شرعاً لازم ہے، دوسری بیوی کو جس طرح اپنے پاس رکھا ہے، اس طرح پہلی کو بھی رکھے یا پھر چھ ماہ ایک کو چھ ماہ دوسری کو رکھے، تا کہ برابری ہوسکے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو سائل پہلی بیوی سے تمام صورت حال بیان کر کے اس سے اجازت لیکر دوسری بیوی کو دس ماہ اپنے پاس رکھے، ورنہ سائل مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوش نہ ہو سکے گا۔
كما في فتح القدير: واعلم أن هذا الإطلاق لا يمكن اعتباره على صرافته، فإنه لو أراد أن يدور سنة سنة ما يظن إطلاق ذلك له، بل ينبغي أن لا يطلق له مقدار مدة الإيلاء وهو أربعة أشهر، وإذا كان وجوبه للتأنيس ودفع الوحشة وجب أن تعتبر المدة القريبة، وأظن أكثر من جمعة مضارة إلا أن ترضيا به۔اھ (3 / 434)
وفي بدائع الصنائع: وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما أن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة. والأصل فيه قوله عز وجل {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة} [النساء: 3]۔اھ (2 / 332)